شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 24
24 رسموں کی وجہ سے قرضوں میں گرفتار نہ ہوں شادی بیاہ کے موقعہ پر بعض فضول قسم کی رسمیں ہیں۔جیسے بری دکھانا یا وہ سامان جو دولہا والے دولہن کے لئے بھیجتے ہیں اس کا اظہار ، پھر جہیز کا اظہار۔با قاعدہ نمائش لگائی جاتی ہے(دین) تو صرف حق مہر کے اظہار کے ساتھ نکاح کا اعلان کرتا ہے۔باقی سب فضول رسمیں ہیں۔صرف رسموں کی وجہ سے، اپنا ناک اونچار کھنے کی وجہ سے غریبوں کو مشکلات میں، قرضوں میں نہ گرفتار کریں اور دعویٰ یہ ہے کہ ہم احمدی ہیں اور بیعت کی دس شرائط پر پوری طرح عمل کریں گے۔اس شادی کی رسم پر ہی خوفناک بھیانک نتائج سامنے لانے والی اور بہت سی مثالیں مل سکتی ہیں اور جب رسمیں بڑھتی ہیں تو پھر انسان بالکل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ مکمل طور پر ہوا و ہوس کے قبضہ میں چلا جاتا ہے جبکہ بیعت کرنے کے بعد تو وہ یہ عہد کر رہا ہے کہ ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حکومت مکمل طور پر اپنے اوپر طاری کر لے گا۔اللہ اور رسول ہم سے کیا 66 چاہتے ہیں ، یہی کہ رسم و رواج اور ہوا و ہوس چھوڑ کر میرے احکامات پر عمل کرو۔“ تعویذ گنڈے لینے سے بچیں شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ 101 تا 103 ) یہ سب لغویات ہیں بلکہ شرک ہے یہ تعویذ گنڈے کرنے والی جو عورتیں ہیں اگر آپ ان کے ساتھ رہ کر جائزہ لیں تو شاید وہ کبھی نماز نہ پڑھتی ہوں۔پھر ہمارے معاشرے میں یعنی جماعت کے باہر جو معاشرہ ہے اس میں زندہ انسانوں کے علاوہ مردہ پرستی بہت ہے۔۔۔پیروں فقیروں کی قبروں پر جاتے ہیں اور وہاں مرادیں مانگتے ہیں۔اب ان قبروں کو بھی لوگوں نے شرک کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔“ الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اول صفحہ 364،363)