شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 8

8 رسوم کی ادائیگی بڑی دھوم دھام سے کی جاتی ہے وہاں یہ تصور قائم ہو گیا ہے کہ شاید یہ بھی شادی کے فرائض میں داخل ہے اور اس کے بغیر شادی ہو ہی نہیں سکتی۔مہندی کی ایک رسم ہے۔اس کو بھی شادی جتنی اہمیت دی جانے لگی ہے۔اس پر دعوتیں ہوتی ہیں۔کارڈ چھپوائے جاتے ہیں۔سٹیج سجائے جاتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ کئی دن دعوتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور شادی سے پہلے ہی جاری ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ کئی ہفتہ پہلے جاری ہو جاتا ہے۔اور ہر دن نیا سٹیج بھی سج رہا ہوتا ہے اور پھر اس بات پر بھی تبصرے ہوتے ہیں کہ آج اتنے کھانے پکے اور آج اتنے کھانے پکے۔یہ سب رسومات ہیں جنہوں نے وسعت نہ رکھنے والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ایسے لوگ پھر قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔غیر احمدی تو یہ کرتے ہی تھے اب بعض احمدی گھرانوں میں بھی بہت بڑھ بڑھ کر ان لغو اور بیہودہ رسومات پر عمل ہو رہا ہے یا بعض خاندان اس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔بجائے اس کے کہ زمانہ کے امام کی بات مان کر رسومات سے بچتے۔معاشرہ کے پیچھے چل کر ان رسومات میں جکڑتے چلے جارہے ہیں۔چند ماہ پہلے میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مہندی کی رسم پر ضرورت سے زیادہ خرچ اور بڑی بڑی دعوتوں سے ہمیں رکنا چاہئے۔تو اس دن یہاں لندن میں بھی ایک احمدی گھر میں مہندی کی دعوت تھی۔جب انہوں نے میرا خطبہ سنا تو انہوں نے دعوت کینسل (Cancel) کردی اور لڑکی کی چند سہیلیوں کو بلا کرکھانا کھلا دیا اور باقی جوکھانا پکا ہوا تھا وہ یہاں بیت الفتوح میں ایک فنکشن (Function) تھا اس میں بھیج دیا۔تو یہ ہیں وہ احمدی جو توجہ دلانے پر فوری رد عمل دکھاتے ہیں اور پھر معذرت کے خط بھی لکھتے ہیں۔لیکن مجھے بعض شکایات پاکستان سے اور ربوہ سے بھی ملی ہیں۔بعض لوگ ضرورت سے زیادہ اب ان رسموں میں پڑنے لگ گئے ہیں اور ربوہ کیونکہ چھوٹا سا شہر ہے اس لئے ساری باتیں فوری