شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 4

4 طریق بھی بیان فرمائے۔آئندہ آنے والی نئی ایجادات کے آنے اور ان سے انسان کے فائدہ اٹھانے کے بارہ میں بھی بیان فرما دیا۔زمین و آسمان میں جو بھی موجود ہے اس کے بارہ میں انسانی عقل وفراست کی حدود تک جتنی بھی، جہاں تک پہنچ ہو سکتی تھی اس کے سمجھنے کے بارہ میں بھی راہنمائی فرمائی۔ہر وہ چیز بیان فرما دی جن تک آج انسان کی عقل کی رسائی ہورہی ہے بلکہ آئندہ پیش آمدہ باتوں کے بارہ میں بھی بیان فرما دیا جس کے بارہ میں آج سے 1400 سال پہلے کا انسان سمجھ نہیں سکتا تھا اور اس سے پہلے کا انسان تو بالکل بھی نہیں سمجھ سکتا تھا گو کہ اُس وقت جب یہ باتیں قرآن کریم میں بیان ہوئیں ایک عام مسلمان مومن سمجھ نہیں سکتا تھا۔لیکن ان سب باتوں کو انسان کامل اور حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی فراست جو تھی اس وقت بھی کبھتی تھی۔پس وہ ایک ایسا نور کامل تھے جو اللہ تعالیٰ کے نور سے منور تھا اور جنہوں نے اپنے صحابہ میں ان کی استعدادوں کے مطابق بھی وہ نور بھر دیا۔انہیں عبادتوں کے طریق بھی سکھائے۔انہیں عبادتوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ان کو اپنے مقصد پیدائش کو سمجھنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔اور پھر آپ سے وہ نور پا کر صحابہ نے اپنی استعدادوں کے مطابق پھر وہ نور آگے پھیلانا شروع کر دیا اور چراغ سے پھر چراغ روشن ہوتے چلے گے اور جن باتوں کا فہم اس وقت کا عام انسان نہیں کر سکتا تھا اس کے بارہ میں بھی بتا دیا کہ اس کامل کتاب سے تا قیامت اب چراغ روشن ہوتے چلے جائیں گے اور آئندہ زمانہ کے مومنین اللہ تعالیٰ کے ان احسانوں کو دیکھ لیں گے۔ایک دنیا دار تو صرف دنیا کی نظر سے دیکھے گا لیکن ایک حقیقی مومن اپنے مقصد پیدائش کا حق ادا کرتے ہوئے اُن کو اس نظر سے دیکھے گا کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق آج ہی یہ چیزیں پیدا ہوئی ہیں۔مومن کی نظر صرف ان ایجادات سے اور ان دنیاوی چیزوں سے دنیاوی فائدوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے مقصد پیدائش کو سمجھتے ہوئے اس حقیقی نور سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا جو اللہ تعالیٰ کے