شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 26
26 رونق اب بدعت کا رنگ اختیار کر گئی ہے محرم میں شادی کے جائز ہونے کا جہاں تک سوال ہے یہ فتویٰ نہیں دیا جاسکتا کہ ناجائز ہے۔لیکن دوسروں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے نہ کرنا بہتر ہے۔یہ صرف دوسروں کے نہیں بلکہ ہمارے بھی جذبات کا تعلق ہے۔ہندؤں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے اگر گائے کا گوشت بند کیا جاسکتا ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود نے پیشکش کی تھی جو جائز اور حلال ہے تو ایسی باتیں جس سے مسلمانوں کے ایک طبقہ کو تکلیف پہنچتی ہو اس کا خیال کیوں نہ رکھا جائے۔جہاں تک رونق کا سوال ہے یہ چیز اب بدعت کا رنگ اختیار کرگئی ہے۔شادی اور ولیمہ کے فنکشنز فرائض میں سے ہیں۔اگر ان کو بعض حالات میں Avoid کرنا زیادہ مستحسن ہے تو رونق تو کوئی شرعی چیز نہیں اور اب جس طرح رونقیں ہوتی ہیں کہ با قاعدہ دعوت دی جاتی ہے اور پھر ہر روز کی نئی سجاوٹیں، بے انتہا ڈھول ڈھمکے ہوتے ہیں یہ غلط ہے اور اس کا سد باب ہونا چاہیے۔شوریٰ کے فیصلے میرے منظور شدہ ہیں جن پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔اس کی پابندی کروائیں۔“ (خط حضور انور بتاریخ یکم جنوری 2010ء)