شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 22

22 کا موقع نہ دیں جہاں رسم و رواج بوجھ بن رہے ہیں۔یعنی جن کا اسلام سے، دین سے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہو۔اگر آپ لوگ اپنے رسم و رواج پر زور دیں گے تو دوسری قوموں کا بھی حق ہے۔بعض رسم و رواج تو دین میں خرابی پیدا کرنے والے نہیں وہ تو جیسا کہ ذکر آیا وہ بے شک کریں۔ہر قوم کے مختلف ہیں جیسا کہ پہلے میں نے کہا انصار کی شادی کے موقعہ پر بھی خوشی کے اظہار کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال بیان فرمائی ہے۔لیکن جو دین میں خرابی پیدا کرنے والے ہیں وہ چاہے کسی قوم کے ہوں رد کئے جانے والے ہیں کیونکہ احمدی معاشرہ ایک معاشرہ ہے اور جس طرح اس نے گھل مل کر دنیا میں وحدانیت قائم کرنی ہے، اسلام کا جھنڈا گاڑنا ہے، اگر ہر جگہ مختلف قسم کی باتیں ہونے لگ گئیں اس سے پھر دین بھی بدلتا جائے گا اور بہت ساری باتیں بھی پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے پھر بڑی بدعتیں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں، اس لئے بہر حال احتیاط کرنی چاہئے۔“ خطبات مسرور جلد سوم ص 691 تا 693) اپنے آپ کو معاشرے کے رسم ورواج کے بوجھ تلے نہ لائیں اپنے آپ کو معاشرے کے رسم ورواج کے بوجھ تلے نہ لائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کو آزاد کروانے آئے تھے اور آپ کو ان چیزوں سے آزاد کیا اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر آپ اس عہد کو مزید پختہ کرنے والے ہیں۔جیسا کہ چھٹی شرط بیعت میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا۔یعنی کوشش ہو گی کہ رسموں سے بھی باز رہوں گا اور ہوا و ہوس سے بھی باز رہوں گا۔تو قناعت اور شکر پر زور دیا۔یہ شرط ہر احمدی کے لئے ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب ہو۔اپنے اپنے وسائل کے لحاظ سے اس کو ہمیشہ ہر احمدی کو اپنے مدنظر رکھنا چاہئے۔“ (خطبات مسرور جلد سوم ص 694)