شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 14
14 آتا بھی ہے تو اسے فوری طور پر جھٹکا جانا چاہئے۔استغفار کے ذریعہ سے اس کو جھٹکنا چاہئے۔جب خیالات پاکیزہ ہوں گے تو عمل بھی پاک ہوں گے۔پھر لغویات ایسے انسانوں پر کوئی اثر نہیں ڈال سکیں گی۔اسی طرح انسان اپنی روزی کے بھی حلال ذرائع استعمال کرے۔محنت کرے۔محنت سے کمائے۔بجائے اس کے کہ دوسروں کے پیسے پر نظر رکھ کر چھینے کی کوشش کرے یا غلط طریق سے پیسے کمائے۔پاکستان وغیرہ میں رشوت وغیرہ بھی بڑی عام ہے یہ سب حلال کی کمائیاں نہیں ہیں۔آپ نے یہی فرمایا کہ اپنے پیٹ اور اس میں جو خوراک بھرتا ہے اس کی بھی حفاظت کرے۔پس جائز کمائی سے اپنا بھی اور اپنے بیوی بچوں کا بھی پیٹ پالےاور ایسے ہی لوگ ہیں جو پھر اللہ اوراس کے رسول پر صیح ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک دعا ہے۔اللہ کو پانے کے لئے یہ دعا لکھی ہوئی ہے۔آپ نے فرمایا کہ: ”اے میرے قادر خدا! اے میرے پیارے راہنما! تو ہمیں وہ راہ دکھا جس سے تجھے پاتے ہیں اہل صدق و صفا اور ہمیں ان راہوں سے بچا جن کا مدعا صرف شہوات ہیں یا کینہ یا بغض یا دنیا کی حرص و ہوا“۔پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد 23 ص439) پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے ، اپنی بیعت کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے حقیقی ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ ہم اس نبی کے ماننے والے ہیں جنہوں نے ہمیں صحیح راستہ دکھایا۔ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھائی۔اگر اس کے بعد پھر ہم دنیا داری میں پڑکر رسم و رواج یا لغویات کے طوق اپنی گردنوں میں ڈالے رہیں گے تو ہم نہ عبادتوں کا حق ادا کر سکتے ہیں نہ نور سے حصہ لے سکتے ہیں۔