شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 13

13 پس ہر احمدی نوجوان کو خاص طور پر یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ آج کل کی برائیوں کو میڈ یا پر دیکھ کر اس کے جال میں نہ پھنس جائیں ورنہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔انہی بیہودگیوں کا اثر ہے کہ پھر بعض لوگ جو اس میں ملوث ہوتے ہیں تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں اور اس وجہ سے پھر بعضوں کو اخراج از جماعت کی تعزیر بھی کرنی پڑتی ہے۔ہمیشہ یہ بات ذہن میں ہو کہ میرا ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا: بے حیائی ہر مرتکب کو بدنما بنا دیتی ہے اور شرم و حیا ہر حیادار کوحسن وسیرت بخشتا ہے اور اسے خوبصورت بنا دیتا ہے۔( ترمذی کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فى المخ والنخش - حدیث نمبر 1974) پس یہ خوبصورتی ہے جو انسان کے اندر نیک اعمال کو بجالانے اور اس کی تحریک سے پیدا ہوتی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی شرم دل میں ہو جیسا کہ اس سے شرم کرنے کا حق ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں شرم بخشی ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا: یوں نہیں۔بلکہ جو شخص شرم رکھتا ہے وہ اپنے سر اور اس میں سمائے ہوئے خیالات کی حفاظت کرے۔( یہ شرم ہے کہ اپنے دماغ میں آنے والے خیالات کی حفاظت کرو) پیٹ اور جو اس میں خوراک بھرتا ہے اس کی بھی حفاظت کرے۔موت اور ابتلا کو یا درکھنا چاہئے۔جو شخص آخرت پر نظر رکھتا ہے وہ دنیوی زندگی کی زینت کے خیالات کو چھوڑ دیتا ہے۔پس جس نے یہ طرز زندگی اختیار کیا اس نے واقعی خدا کی شرم رکھی۔(ترمذى كتاب صفة القيامة والرقائق والورع باب 89/24 حدیث نمبر 2458) آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان ہے۔پس ذہن میں آنے والے ہر خیال کو اللہ تعالیٰ کی شرم لئے ہوئے آنا چاہئے۔اگر کوئی بد خیال