شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 30

شادی کے مواقع پر بدرسوم اور بدعات سے اجتناب — Page 9

9 طور پر وہاں نظر بھی آجاتی ہیں۔اس لئے اب میں کھل کر کہ رہا ہوں کہ ان بیہودہ رسوم ورواج کے پروان نظر ھی آ اسلئے کھل کہ رہاہوں کہان یہودہ رسم ورواج کے پیچھے نہ چلیں اور اسے بند کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مرتبہ فرمایا کہ: ” ہماری قوم میں یہ بھی ایک بدرسم ہے کہ شادیوں میں صد ہاروپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے“۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 70) آج سے سو سال پہلے یا اس سے زیادہ پہلے اس زمانے میں تو صد ہا روپیہ کا خرچ بھی بہت بڑا خرچ تھا۔لیکن آج کل تو صد ہا کیا لاکھوں کا خرچ ہوتا ہے اور اپنی بساط سے بڑھ کر خرچ ہوتا ہے۔جو شاید اس زمانے کے صد ہا روپوں سے بھی اب زیادہ ہونے لگ گیا ہے۔بلکہ یہ بھی فرمایا کہ آتش بازی وغیرہ بھی حرام ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 49 جدید ایڈیشن) شادیوں پر آتش بازی کی جاتی ہے۔اب لوگ اپنے گھروں میں چراغاں بھی شادیوں پر کرتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ کر لیتے ہیں۔ایک طرف تو پاکستان میں ہر طرف یہ شور پڑا ہوا ہے ہر آنے والا یہی بتاتا ہے، اخباروں میں بھی یہی آرہا ہے کہ بجلی کی کمی ہے۔کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔اور دوسری طرف بعض گھر ضرورت سے زیادہ اسراف کر کے نہ صرف ملک کے لئے نقصان کا باعث بن رہے ہیں بلکہ گناہ بھی مول لے رہے ہیں۔اس لئے پاکستان میں عموماً احمدی اس بات کی احتیاط کریں کہ فضول خرچی نہ ہواور ر بوہ میں خاص طور پر اس بات کا لحاظ رکھا جائے۔اور ربوہ میں یہ صد رعمومی کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں کہ شادیوں پر بے جا اسراف اور دکھاوا اور اپنی شان اور پیسے کا جو اظہار ہے وہ نہیں ہونا چاہئے۔جماعت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ نمی کے موقعوں پر جو رسوم ہیں ان سے تو بچے ہوئے ہیں۔ساتواں دسواں، چالیسواں، یہ غیر احمدیوں کی رسمیں ہیں ان پر عمل نہیں کرتے۔جو بعض دفعہ بلکہ اکثر دفعہ یہی ہوتا ہے