شادی بیاہ کے موقع پر بیٹی کو نصائح

by Other Authors

Page 5 of 6

شادی بیاہ کے موقع پر بیٹی کو نصائح — Page 5

10 9 بیٹی آپ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہو۔اللہ کرے کہ یہ دور پہلے سے زیادہ پُر سکون ہو لیکن جب انسان ایک دور کو چھوڑ کر دوسرے دور میں داخل ہوتا ہے تو اس میں کئی قسم کی دقتوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ابتدا کی معمولی سی لغزش اکثر اوقات ساری عمر کی پشیمانی کا موجب ہو جاتی ہے۔اس لئے نئے دور میں قدم رکھتے ہوئے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔اب تمہارا بہت سے ایسے آدمیوں سے واسطہ پڑنا ہے جن کی طبیعت سے تم مانوس نہیں ہو۔بعض بزرگوں کے لئے اپنے خیالات اور جذبات کو قربان کرنا ہوگا اور بعض افراد کے لئے اپنی طبیعت کو مجبور کر کے پیار محبت کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے تاکہ ان کے ماحول کے قالب میں تم اپنے آپ کو ڈھال سکو۔تم کو اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ نکما اور بے کار آدمی دوسروں کی نظر میں بالکل گر جاتا ہے۔اس لئے کام کرنا اور خدمت کرنا اپنا شیوہ بنا لو۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالو۔انسان کی حالت دُنیا میں ایک جیسی نہیں رہتی تنگی ترشی دونوں پہلو لگے ہوئے ہیں۔تنگی میں صبر کو ہاتھ سے نہ چھوڑو بغیر کسی قسم کی گھبراہٹ کے اللہ کی نصرت صبر شکر کے ساتھ طلب کرتے رہو اور ایسی حالت میں اپنے میاں کے لئے امن اور تسکین کا فرشتہ بنی رہو۔اپنے مطالبات سے اس کو کبھی تنگ مت کرو۔یہاں تک کہ اس کا فضل آ جائے لیکن ایسی حالت میں ایسی قناعت نہیں چاہیے کہ دونوں بے کار ہو کر بیٹھے رہو۔خود بھی اور میاں کو بھی خدا کے آگے جھکائے رکھو اور کام کرنے اور محنت کرنے کی ترغیب اُن کو دیتی رہو۔“ مصباح اپریل 2001 صفحہ 8-9 ) نصائح حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب آپ اپنی بیٹی حضرت مریم صدیقہ صاحبہ (چھوٹی آپا) کی شادی پر نصائح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔بیوی کا پہلا فرض ہے کہ جب وہ خاوند کے گھر جائے تو اُس کی مرضی پہچاننے کی کوشش کرے اور اُس کی طبیعت اور مزاج کا علم حاصل کرے۔پھر اگلا مرحلہ یعنی خاوند کو راضی رکھنا بہت آسان ہو جاتا ہے مگر بعض باتیں ایسی ہیں جو عموماً خاوند کی تکلیف کا باعث بنتی ہیں اُن سے خاص کر احتراز کرنا چاہیے وہ باتیں یہ ہیں۔ایک بات یہ ہے کہ بیوی اکثر خرچ کے لئے تقاضا کرتی ہے۔خرچ حکمت سے لینا چاہیے نہ کہ تقاضا اور تنگ کر کے اور جب خاوند کے پاس روپیہ موجود نہ ہو اس وقت مطالبہ کرنا اُس کو تکلیف دینا ہے۔ایک بات یہ کہ بیوی اکثر اوقات بد مزاج یا خاموش رہے اور جب خاوند گھر آئے تو اُسے سچے دل سے خوش آمدید نہ کہے یا اُس کی بات کاٹے یا ایسے الفاظ لوگوں کے سامنے کہے جس میں خاوند کی کسی قسم کی تحقیر ہو یا بہت نخرے کرے اور ناز برداری کی خواہش رکھے اُس کی خیر خواہی کی بات نہ مانے مثلاً اگر وہ کہے کہ میرے ساتھ کھانا کھاؤ تو جواب دے کہ مجھے بھوک نہیں وہ کوئی دوا تجویز کرے تو کہے کہ یہ مجھے مفید نہیں ہوگی۔میں اسے استعمال نہ کروں گی۔وہ کوئی کپڑا یا تحفہ لائے تو اُسے حقارت سے دیکھے۔غرض ایسی بیسیوں چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن میں بیبیاں اکثر فیل ہو جاتی ہیں اور اپنی زندگی کو تلخ کر لیتی ہیں۔بحث کرنا اور مخالف جواب دینا یہ خاوند کے دل سے بیوی کی محبت کو اس طرح اُڑا دیتا ہے جس طرح ربڑ پنسل کے لکھے کو۔اور یہ عادت