شادی بیاہ کے گیت

by Other Authors

Page 39 of 57

شادی بیاہ کے گیت — Page 39

65 ٹی کے نام اے بیٹی تیرے بخت کا اونچا ہو ستارا اللہ کرے تو سب کی بنے آنکھ کا تارا تو کھیلے سدا خوشیوں میں آئے نہ کوئی دکھ ہوں تیرے مقدر میں زمانے کے سبھی سکھ ہر لمحہ ہو تیرے لئے خوشیوں کا گہوارہ اللہ کرے تو سب کی بنے آنکھ کا تارا گھر اپنے کو جنت کا نمونہ ہی بنانا سرال میں ماں باپ کی تو لاج نبھانا ہر فرد تیرے خلق کا ہی دیکھے نظارہ اللہ کرے تو سب کی بنے آنکھ کا تارا اے بیٹی تو آج ہم سے جُدا ہونے لگی ہے ماں تجھ کو لگا سینے سے کیوں رونے لگی ہے ہے حکم خدا کا نہیں چلتا کوئی چارا اللہ کرے تو سب کی بنے آنکھ کا تارا کس لاڈ سے بیٹی تجھے ماں باپ نے پالا آج اپنے ہی ہاتھوں سے تجھے ڈولی میں ڈالا مل مل کے گلے روتا ہے کیوں بھائی تمہارا اللہ کرے تو سب کی بنے آنکھ کا تارا عزت جو رفیق اپنے بزرگوں کی کرے گا وہ جھولی سدا خوشیوں سے اپنی ہی بھرے گا اکبر وہ کسی موڑ پہ ہرگز نہیں ہارا اللہ کرے تو سب کی بنے آنکھ کا تارا ( مکرم محمد رفیق اکبر صاحب)