شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 93 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 93

۹۳ خل ہوتے ہیں۔مگر خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل ظل و بروز حقیقی ظلی و بر دوز ہونے کی وجہ سے نبی کے لقب کا متمنی ہو گا۔ہاں منتقل نہیں اور رسول کا لقب شریعیت کا ملہ آجائے کی وجہ سے نہیں مل سکتا۔کیونکہ شریعیت تامہ کا ملہ آجانے پر اب اس کی پیروی قلیت کاملہ اور بروزیت کے لئے شرط ہے۔اور کوئی شخص شریعت کی پیروی کے واسطہ کے بغیر بینی اصالتا کوئی روحانی مقام حاصل نہیں کرسکتا۔لہذا مستقل اور آزاد نبی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا محال ہے۔اگر مولوی محمد اور ہیں صاحب یا اُن کی قسم کے معترضین ظلمیت اور بروزیت کی حقیقت سے کما حقہ واقفیت رکھتے تو د کبھی خدا تعالی کے ظلی و بروز کا خاتم النبی صلی اللہ علیہ سلم کے ظلی و بروز پر قیاس کرتے ہوئے السلطان العادل ظل اللہ کی حدیث سے یہ استدلال نہ کرتے کہ میں طرح عادل بادشاہ خدانہیں ہو سکتا اسی طرح خاتم النبی صلی اللہ علیہ ولم کا کوئی بال بھی بی نہیں ہو سکتا۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بروز کی دو قسمیں حقیقی اور مجازی قرار دیتے ہیں۔عادل بادشاہ خدا کا صرف مجازی خلق ہوتا ہے اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وکم کے اخلال حقیقی بھی ہو سکتے ہیں اور مجازی بھی۔مسیح موعود اور مہدی بود علیہ خاتم النبی صلی اللہ علیہ ولم کا حقیقی ظلی و بروز ہے۔چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب۔تنضیمات الہیتہ مکہ میں تحریر فرماتے ہیں : الكمون والبُرُورْ عَلَى ضَرْبَيْنِ حَقِيقِ وَتَجَارَى وَلِهَذَا الْمَجَازِةُ شُعْب كَثِيرَةً مِنْهَا أَنْ يَتَمَثَلَ تِلْكَ الْحَقِيقَةُ في المثالِ فَيَرَى فِي بَعْضِ وَاقِعَاتِهِ كَانَهُ خَلَقَ الْعَالَمَ