شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 47 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 47

نام ب کسی قسم کا کوئی ہی نہ ہوگا۔اور یہ معنے جو کہ خاتم النبین کے حقیقی معنوں کے خلاف تھے اس لئے حضرت اُم المومنین عائشہ الصدیقہ یعنی اللہ عنہا نے جو معلمۂ نصف الدین ہیں فرمایا :- قُولُوا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُو الاني بَعْدَه (در منثور جلد ۵ ص و تكملة مجمع البحار مث ) یعنی لوگو ! یہ تو کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں مگر یہ مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں " ہیں:۔اس پر حضرت امام محمد طاهراً مجمع البحار مں اپنا نقطۂ مخیال یوں لکھتے هذا ناظرا إلى نُزُولِ عِيسَى وَهَذَا أَيْضًا لَا ينَا فِي حَدِيثُ لا نَبِيَّ بَعْدِي لِأَنَّهُ أَرَادَ لَا نَبِيَّ يَسْخُ شَرْعَهُ " ( تكملة مجمع البحار (ش) یعنی امام محمدطاہر علیہ الرحمہ کے نزدیک حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول اس بناء پر ہے کہ عیسی علیہ السلام نے بحیثیت نبی اللہ نازل ہونا ہے۔نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول حديث لا نبی بعدی کے خلاف بھی نہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس قول سے یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہو گا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔گویا حضرت عائشہ صدیقہ نے لا نبی بعدہ کہنا عام معنوں کے لحاظ سے منع فرمایا ہے )