شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 263
HYP نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کے چار کام بیان فرمائے ہیں۔اول : تلاوت آیات - دوم تزکیه نفوس - سوم تعلیم کتاب یعنی بیان شریعت اور چهارم تعلیم حکمت یعنی فلسفہ شریعت کا بیان کرنا اور سمجھانا۔۔۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس منصب رسالت کی بھی تغیر او تشریح خود فرمائی ہے جس میں آپ کے ساتھ دوسرے انبیاء اور رسول شریک ہیں۔اور میں منصب کو بالعموم ایک حد تک سمجھا جارہا تھا تو خاتم النبیین کا مرتبہ اور مقام میں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم تمام انبیاء سے منفرد ہیں۔اور جس مرتبہ اور منصب کا دنیا کو پہلے علم نہ تھا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی تفسیر کا بیان کیا جتنا زیادہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ الہ تعالی نے آپ کے اس منصب کی تفسیر و تشریح کو لوگوں پر نہیں چھوڑا۔بلکہ الفتى أن يفسر بعضه بعضا کے مطابق سرور کائنات فخر موجودات سيد ولد آدم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے اس یگانہ اور امتیازی مقام اور ارفع اور اعلیٰ اور اتم منصب کی حقیقت خود ہی بیان فرما دی ہے۔یا درہے کہ قرآن کریم میں خاتم النبیین کا ہی لقب ایک ایسا تقر یہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان امتیازی صفات کا قائم مقام ہے۔جو صفات آپ کی قرآن کریم نے تفصیل سے بیان کی ہیں۔صرف یہی ایک اصطلاحی لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امتیازی اور ارفع اور اتم شان کا مظہر ہے۔عقلی طور پر یہ حقیقت مسلم ہے کہ خدا تعالیٰ سے قرب پانے میں ایک روحانی انسان جس مقام پر ہو گا اتنا ہی وہ خدا تعالیٰ سے نہیں لے گا۔اور جو روحانی انسان قرب الہی کے انتہائی مرتبہ پر پہنچا ہوا ہوگا اور دوسرے تمام لوگوں سے قربا میں امتیازی شان رکھتا ہوگا اتنی ہی اس کی شان استفا منہ یعنی منی لینے کی شان بلند ہوگی۔اور پھر جتنی اس کی شان استفاضہ بلند ہوگی اتنی ہی اس کی شان افاضہ یعنی