شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 212 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 212

۲۱۲ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والوں کو نبیوں، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کی صرف ظاہری معیت حاصل رہے گی۔نہ کہ درجہ اور مرتبہ میں معیت۔اور ران معنوں کی خرابی اس سے ظاہر ہے کہ آیت کا ما حصل پھر یہ بن جاتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے سے کوئی شخص صدیق ، شہید اور صالح کا مرتبہ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔لیکن اگر صدیقوں کی معیت سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے آپ کی امت میں صدیق پیدا ہو سکتے ہیں اور شہیدوں کی معیت سے مراد یہ ہے کہ آپ کی پیروی سے امتی شہداء کا مرتبہ پاسکتے ہیں اور صالحین کی معیت سے یہ مراد ہے کہ آپ کے وقتی صالح بن سکتے ہیں تو پھر ندیوں کی معیت سے مراد بھی یہی ہو سکتی ہے کہ آپ کی پیروی سے آپ کا ایک انتی مقام نبوت بھی پا سکتا ہے۔مفردات راغب میں لفظ معم کے معنے یوں لکھے ہیں :۔مَعَ يَقْتَضِى الإِجْتِمَاعَ امَّا فِي الْمَكَانِ تَحْرُهُمَا مَعَا فِي الدَّارِ۔اَوْ فِي الزَّمَانِ تَكُو وَلِدَا مَعًا - اَوْ فِي الْمَعْنى كَالْمُتَصَائِفَيْنِ وَ الْآخِ وَ الْآبِ فَإِنَّ احَدَهُمَا صَارَ اَنَّا لِلْأَخِرِ فِي حَالٍ مَا صَارَ الْأَخِرُ أَخَاهُ - وَإِمَّا في الشَّرْفِ وَالرِّيَّةِ نَحْوُهُمَا مَعَا فِي الْعُلُو ) (مفرداتكم یعنی لفظ مع اجتماع کا تقاضا کرتا ہے۔اور یہ اجتماع چاک صورتوں میں ہو سکتا ہے۔اول دونوں ایک جگہ میں اکٹھے ہوں۔