شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 20 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 20

یعنی یہ عیسی تم میں سے تمہارا امام ہوگا۔اور یہ امام مہدی ہوگا۔پس عیسی اور امام مہدی ایک ہی انتی شخص ہو گا جو مبشرات والی نبوت کا حامل ہوگا۔کیونکہ یہی مسلم کی اس حدیث کو جب حدیث لم يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَات کے سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو صاف کھل جاتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کے مسیح موعود کو نبی الله صرف المبشرات یا بالفاظ دیگر مکالمه مخاطبه الہیہ مشتمل بر امور غیبیہ کثیرہ کی وجہ سے ہی قرار دیا ہے کیونکہ جو نبوت حدیث لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبوة کے رُو سے منقطع ہو چکی ہے اس کے ساتھ تو کسی شخص کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ظاہر ہونا ختم نبوت کے صریح منافی ہے خواہ یہ کوئی پہلا نبی ہو یا نیا نبی۔ہاں المبشرات جیسے نبوت میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی قرار دیا ہے سی محمدی بھی صرف اور صرف اسی نبوت کے مرتبہ کاحامل ہوسکتا ہے۔اور صرف المبشرات کی وجہ سے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم اُسے نبی اللہ کہلانے کا ستی سمجھتے ہیں۔حضرت عیسی علیہ اسلام کا اپنی پہلی نبوت کے ساتھ امت محمدیہ میں آجانا تو صریح طور پر حديث لم يسبق من النبوة اور آیت خاتم النبیین کے مخالف ہے۔پس چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انت محمدیہ کے بیج موجود کو خود نبی اللہ قرار دیا ہے اور خود ہی فرما دیا ہے کہ نبوت میں سے صرف المبشرات ہی باقی ہیں نہ کچھ اور۔اس لئے زبان مبارک نبوی سے ہی یہ ثابت ہوگیا کہ المبشرات ایک قسم کی نبوت ہے جو امت کے لئے باقی ہے۔اور ایسی نبوت ختم نبوت کے منافی نہیں بلکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی امت میں اپنے مرتبہ خاتم النبیین کے روحانی شیض کا ثبوت ہے۔پس