شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 13
۱۳ ہو گئی ہے۔بس شریعیت نبوت کے اجزاء میں سے ایک بزد ہے۔پھر اس مبشرات والی غیر تشریعی نبوت کے جاری رہنے کے متعلق وہ یہ دلیل دیتے ہیں :- فَإِنَّهُ يَسْتَحِيلُ أَنْ يَنْقَطِعَ خَبُرُ اللَّهِ وَ أَخْبَارُهُ مِنَ الْعَالَمِ إذْ لَوِ انْقَطَعَ لَمْ يَبْقَ لِلْعَالَمِ عِذَاءُ يَتَخَذَى به في بقاء وُجُودِ (فتوحات مکیہ جلد امت با ۸۳) یعنی یہ امر محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اخبار غیبیہ اور حقائق و معارف کا علم دیا جانا بند ہو جائے۔کیونکہ اگر یہ بند ہو جائے تو پھر دنیا کے لئے کوئی روحانی غذا باقی نہ رہے گی جس سے وہ اپنے روحانی وجود کو باقی رکھ سکے۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کے نزدیک اس جگہ وہ نبوت جو قیامت تک باقی ہے اخبار غیبیہ کا ہی دوسرا نام ہے۔شریعت دائی نبوت اب نہیں مل سکتی۔شریعت کو وہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزیر۔۔عارض یعنی اس اخبار غیبیہ والی نبوت پر ایک وصف زائد یا جزو زائد قرار دیتے ہیں۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں : فلما كانت النُّبُوَةُ اشْرَفَ مَرْتَبَةِ وَالْمَلَهَا يَنْتَعِى إليها مَنِ اصْطَفَاهُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ عَلِمْنَا اَنَّ التَّشْرِيمَ امْرُ عَارِضَ بِكَونِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ فِيْنَا حَكَما مِنْ غَيْرِ تَشْرِيعِ وَهُوَ نَى بِلَا شَاقِ (فتوحات کلیه جلد اول ) یعنی جب نبوت وہ اشرف اور اکمل مرتبہ ہے جس پر وہ شخص پہنچتا ہے جسے خدا تعالیٰ