شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 89
۸۹ ہیں اور لکھتے ہیں کہ اکثر انبیاء نے اسی طریق سے کمالات ولایت حاصل کرنے کے بعد مقام نبوت پایا ہے۔گو ان کی الگ الگ اصالت کی راہیں بھی ہیں۔اُن کی عبارات قبل ازیں بیان کی جاچکی ہیں۔حضرت باقی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :- کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بھر بیچتی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل نہیں کر سکتے۔ہمیں جو کچھ ملتا ہے علی اورتفصیلی طور پر ملتا ہے ؟" IPA۔و ازالہ اوہام مش۱۳ ) پس وہ دروازہ جس سے تمام روحانی مدارج خلقی اور فیملی طور پر ملتے ہی وہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سم میں فائیت کا دروازہ ہے۔اس راہ سے نبوت پانے کو چوری قرار دنیا خود اس کو چہ سے نا آشنائی کا ثبوت ہے۔مولوی محمد قاسم صاحب علیہ الرحمہ جو ان کے روحانی باپ نہیں وہ تو تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے اخلال قرار دیتے ہیں۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں:۔انبیاء میں جو کچھ ہے وہ خلق اور عکس محمد ہی ہے۔کوئی ذاتی کمال نہیں۔پر کسی نبی میں وہ کس اسی تناسب پر ہے جو جمال کمال محمدی میں تھا۔اور کسی میں بوجہ معلوم وہ تناسب نہ رہا ہو " د تحذیر الناس ۲۵-۳۰ بلحاظ ایڈیشن مختلفه ) آپ کے نزدیک پورے تناسب والانی علی خاتم النبیین ہوتا ہے۔۔!