شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 68
تا ہے کہ احمدیت کے بعیت نامہ میں ایک تنقل دفعہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کی موجود ہے لہذا مرزا صاحب مرحوم اگر اپنے تئیں نبی کہتے ہیں تو اسی معنی ہیں پرسلمان ایک آنے والے سیج کا منتظر ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں۔پس اگر احمدیت وہی ہے جو خود حضرت مرزا صاحب مرحوم بانی سلسلہ کی تحریروں سے ظاہر ہوتی ہے تو اسے ارتداد سے تعبیر کرنا بڑی ہی زیادتی ہے ؟“ و منقول از اخبار الفضل ۲۱ مارچ ۴۱۹۲۵ه ) پس یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ تمام مسلمان فرقوں کے عقیدہ دربارہ ختم نبوت سے اصولی طور پر اتفاق رکھتی ہے۔تمام مسلمان فرقے اور ان کے علماء بھی حضرت عیسی علیدات لام نبی اللہ کے امت محمدیہ میں آنے کے قائل ہیں۔اور و تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام غیر تشریعی نبی ہوں گے اور امتی ہو کر آئیں گے۔پس وہ سب ایسے شخص کا بعدخاتم النبیین صلی اللہ علیہ سلم کے انت محمدیہ میں آنا مانتے ہیں جیسے وہ ایک پہلو سے نسبتی اللہ اقرار دیتے ہیں اور دوسر پہلو سے امتی۔اس طرح وہ سب ضرورت نبوت کے قائل ہیں۔جماعت احمدیہ بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو ایک پہلو سے بنی اور ایک پہلو سے اُمتی تسلیم کرتی ہے اور آنحضرت مصلے اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی سے بڑھ کر دعوی کرنے والے انسان کو ملعون اور دجال یقین کرتی ہے۔پس جماعت احمدیہ کا دوسرے سلمان فرقوں سے کوئی اٹھولی اختلاف نہیں بلکہ صرف ایک