شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 57 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 57

لیں تو حدیث سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک حضرت ہارون علیہ السلام موسیٰ کے بعد زندہ رہے۔حالانکہ یہ بات واقعہ کے خلاف ہے۔کیونکہ حضرت ہارون علیدات لام حضرت موسی علیا اس نام سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوہ تبوک پر غیر حاضری کے زمانہ کے لئے نیابت میں تشبیہہ دی گئی ہے۔نہ کہ اس مستقلہ نبوت میں بھی جو ہارون علایت سلام کو حاصل تھی۔اس جگہ زمانی بعدیت کے لحاظ سے نبوت کے بند ہونے یا نفی کا قطعاً ذکر نہیں۔کیونکہ بعد یت زمانی سیاق حدیث کے خلاف ہے۔اگر حضرت ہارون علیہ السّلام حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے بعد زندہ رہے ہوتے تو پھر بعد بہت زمانی مراد لی جا سکتی تھی۔اس جگہ بعدی کے معنے منیری کے ہیں۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بیان فرما رہے ہیں۔کہ غزوہ تبوک پر غیر حاضری کے زمانہ میں میرے سوا کوئی نبی نہیں۔مولوی محمد ادریس صاحب بعدیت زمانی اور نبوتت غیر مستقلہ مراد لے کر ہمیشہ ہمیش کے لئے نبوت غیر مستقلہ کی بھی نفی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔مگر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے اس لطیف اور پُر مغز استدلال کے بالمقابل اُن کی ساری کوشش بے سود ہے۔حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمتہ کے نزدیک حضرت ہارون علیہ السلام اصالتاً یعنی براہ راست اور تنقل نبی تھے۔لہذا إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِي بَعدِی میں غزوہ تبوک پر غیر حاضری کے زمانہ میں صرف مستقلہ نبوت کی نفی ہی مراد ہو سکتی ہے۔اب اگر مولوی محمد ادریس صاحب