شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 38
۳۸ موصوف نے دو شرطوں سے مشروط قرار دیا ہے۔شرط اول یہ ہے کہ ایسا نبی اب نہیں آسکتا جو دین محمدی کو منسوخ کرتا ہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ ایسا نبی بھی نہیں آسکتا جو امت محمدیہ میں سے نہ ہو۔پس ایسے نبی کا آنا جو آنحضرت صلی للہ علیہ وسلم کا تابع اور امتی اور خادم اور غلام ہو۔حضرت امام صاحب موصوف کے نزدیک ختم نبوت کے منافی اور خلاف نہیں۔مولوی عبدالحی صاحب کے نزدیک مجرد نبی کا آنا محال نہیں ہے حضرت مولوی عبدالحی صحب لکھنوی فرنگی ملت اپنی کتاب دافع الوسواس کے ما نیا ایڈیشن پر اپنا مذہب ختم نبوت کے بارے میں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا زمانے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے “ اور اپنے اس مذہب کی تائید میں حضرت امام علی القاری علیہ الرحمہ کے اسی قول کو پیش کرتے ہیں جو خاتم النبیین کے معنوں میں بھی پیش کر چکا ہوں۔ان اقوال سے ظاہر ہے کہ حضرت امام علی انصاری اور حضرت مولوی عبدالحمی صاحب دونوں بزرگوار ختم نبوت کے دو پہلو مانتے ہیں۔ختم نبوت کے منفی اور مثبت دو پہلو ان دو پہلوؤں میں سے ایک پہلو منفی اور دوسرا مثبت ہے۔منفی پہلو