شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 37 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 37

۳۷ الرحمنہ اور حضرت مولانامولانا روم علیہ الرحمہ کی عبارات سے معلوم کر چکے ہیں۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی معنی آخری شارع اور آخر می مستقل نبی ہیں۔اور یہ معنے آپ کے مقام خاتم النبیین کے لوازم میں سے ہیں۔جیسا کہ اسی مضمون کے دوسرے حصہ میں اس امر پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔W امام علی القاری کے نزدیک خاتم تبتین کے حسنی حضرت امام علی القاری رحمۃ اللہ علیہ و فقہ حنفیہ کے مشہور امام ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدَ يُقَا نَبِيًّا کی تشریح کرتے ہوئے اپنی کتاب موضوعات کبیر کے صفحہ ۵۸ ۵۹ پر فرماتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادہ ابراہیم نے زندہ رہتے اور بموجب حدیث ہذا نبی ہو جاتے یا اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی ہو جاتے تو وہ دونوں آپ کے تابع ہوتے۔یہ کہہ کر امام موصوف اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ کیا اُن کا نبی بن جانا آیت خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا ؟ فرماتے ہیں :- " فَلَا يُنَا تِضُ قَوْلَهُ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذَا الْمَعْنى أَنَّهُ لَا يَاتِي نَى يَنْسَعُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ " یعنی ان دونوں بزرگواروں کا نبی ہو جانا خاتم النبیین کے قول کے خلاف نہ ہوتا کیونکہ خاتم النبیین کے معنے یہ ہیں کہ اب کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔گویا آیت خاتم النبیین سے نبوت کے انقطاع اور بندش کا ثبوت امام صاحب