شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 28
۲۸ پھر آپ فرماتے ہیں :- یاد یہ ہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوی میں نبی کا نام سن کر دھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا ئیں نے اس نبوت کا دعوی کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست بنیوں کو ملی ہے۔لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔میرا ایسا دعوی نہیں ہے۔بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور کر پینے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضیہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشتا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔اسلئے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے بنی اور ایک پہلو سے اُمتی۔اور میری نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظل ہے نہ کہ اصلی نبوت " (حقیقۃ الوحی منشا ) حضرت امام عبد الوہاب شمران علیہ الرحمہ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کے بیان کے مطابق نبوت کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں جن میں سے پہلی قسم یہ المبشرات والی نبوت ہی ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں :- تنقسم النبوة البَشَرِيَّةُ عَلَى يَسْمَيْنِ الْأَوَّلُ مِنَ اللَّهِ إِلَى غَيْرِهِ مِنْ غَيْرِ رُوح مَلكي بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَ عَبْدِهِ بَلْ أَخْبَارَاتُ الهَيَّةَ يَجِدُهَا فِي نَفْسِهِ مِنَ الْغَيْبِ أَو فِي تَجَلِياتِ وَلَا يَتَعَلَّى بذلك حكم تحليل أَوْ تَحْرِيمِ بَلْ تَحْرِينَ بِمَعَانِي الْكِتَبِ وَالسُّنَّةِ أو بِصِدْقِ حَكَم مَشْرُوعٍ ثَابِتِ اللَّهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ تعالى او تعريف بِفَسَادِ حُكُم قَدْ ثَبَتَ بِالنَّقْلِ صَحَتُهُ وَنَحْوَ ذلك۔وكل ذلك تَنْبِيَهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَشَاهِدُ عَدْلٍ