شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 27
۲۷ پھر دوسرا طریق حصول کمالات نبوت کا رہ یوں بیان کرتے ہیں :- راه دیگر آن است که بتوسط معمول این کمالات ولایت وصول کمالات نبوت میستر میگر در (مکتوبات امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی جلد اول ۳ ۴۳ ) یعنی کمالات نبوت کے حصول کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ کمانات درایت کے حصول کے ذراجیہ کمالات نبوت کا پانا میسر ہوتا ہے۔یہ کمالات نبوت المبشرات یا اخبار غیبیہ ہی ہیں مین کو حضرت محی الدین ابن عربی بموجب حديث نبوى لم يبقَ مِنَ النُّبُوَة إِلَّا المُبَشِّرَاتُ ایسی نبوت قرار دیتے ہیں جو اُن کے نزدیک قیامت تک باقی ہے۔انہیں کمالات نبوت کے حصول کو حضرت مجدد الف ثانی ختم نبوت کے منافی قرار نہیں دیتے۔یہی وہ کمالات نبوت ہیں جن کے پائے کہ حضرت مولانا ردم امت کے اندر نبوت کا ملنا قرار دیتے ہیں پس یہ نبوت در اصل بات کی نبوت ہے جو کامل اتباع نبوی یعنی زنانی الرسول کے دروازہ سے ملتی ہے۔یہ نبوت علمائے ربانی کے نزدیک قیامت کے دن تک جاری ہے اور آیت خاتم النبیین کے خلاف نہیں بلکہ خاتم النبیین صلی الہ علیہ سلم کی ختم نبوت کے کمال فیضان اور انبیاء کرام میں سے آپ کی بے نظیر اور ممتاز قوت قدسیہ کا ایک روشن ثبوت ہے۔حضرت بانی ساب سہ احمدیہ بھی فرماتے ہیں :- " پر ستقل نبودت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرختم ہوگئی ہے ، گر کی نبوت۔جس کے معنی میں عین تین محمدی سے دنی پا نا وہ قیامت تک باقی رہیگی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہو (حقیقة الوحی مشا)