شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 265
۲۶۵ پھر خدا تعالیٰ بتاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کا مقام در اصل اس تمثیل سے بھی بالا ہے۔عربی زبان میں تمثیل کے ذریعہ انتہائی قرب سمجھانے کی مثال قاب قوسین سے بہتر نہیں مل سکتی۔لیکن یہ تمثیل بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب انہی کے مرتبہ کا پورا تصور نہیں دلا سکتی۔اس لئے اس سے بالا تر تصویر دلانے کے لئے او ادنی کے الفاظ استعمال کئے گئے۔اس سے ظاہر ہے کہ اس شان دو مرتبہ اور کمال کا انسان بلحاظ حقیقت کے نہ اب تک کوئی گذرا ہے اور نہ آئندہ کوئی ہوگا۔یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرب انہی کے اس انتہائی نقطہ پر قرار دیتی ہے جو اس دنیا میں کسی انسان کو حاصل ہو سکتا تھا۔پس جب آپ قرب انہی کے پانے میں ایسے ارفع اور امتیازی مقام پر کھڑے ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ آپ کی شان استقاضہ رفیض لینے کی شان بھی تمام انبیا اور مرسلین کے مقابلہ میں ائم اور اکمل ہے۔جب آپ کی شان استفاضہ میں یہ کمال ہے تو اس سے قطعی طور پر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ آپ اپنی شان افاضہ رفیض رسانی میں بھی تمام انبیاء اور مرسلین سے بڑھے ہوئے ہیں۔لہذا اگر پہلے انبیاء کی پیروی اور افاضہ سے اُن کے امتیوں کو قرب الہی میں ولایت کے مدارج مختلفہ صدیقیت - شہادت اور صالحیت حاصل ہو سکتے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان افاضہ کے لحاظ سے آپ کے امتیوں کو ولایت کے ان مقامات سے بڑھ کر نبوت کا مقام بھی حاصل ہونا چاہیئے۔کیونکہ صدیقیت سے بالا مقام صرف نبوت کا مقام ہے۔اگر یہ مرتبہ اور مقام ہر پہلو سے منقطع قرار دیا جائے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں شان افاضہ کے لحاظ سے حقیقی برتری نہیں رہتی۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے مقرب ہونے کے لحاظ سے سب سے بلند مقام پر قرار دیا ہے۔اس لئے اُس نے