شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 264
فیض رسانی کی شان بھی بند ہوگی یہ شان استفاضہ اور شان افاضہ میں با ہم لازم د ملزوم کا تعلق ہے۔اور یہ ایسا تعلق ہے کہ اگر ایک چیز پائی جائے تو دوسری کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے کبھی عزوم کو لازم کے ذریعہ ثابت کیا جاتا ہے اور کبھی لازم کو ملزوم کے ذریعہ ہیں استفاضہ کی بلندی افاضہ کی بلندی پر دال ہوگی اور افاضہ کی رفعت شان استفاضہ کے کمال پر دلیل ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی شان استفاضہ و اقامتہ از نئے قرآن کریم اب ہم قرآن کریم سے دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ ولیم کی شان استفاضہ و افاضہ کا مقام کتنا بلند ہے۔تا خاتم النبیین کی شان کا ہمیں حقیقی تصویر ہو سکے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آپ کی شان اور مرتبہ کے کمال کو بیان کرنے کے لئے اور فرماتا ہے " ريا نند لى نَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی (سُورَة نجم ) یعنی آپ خدا تعالیٰ سے قریب ہوئے یعنی اُس سے فیض لیا اور پھر مخلوق کی طرف جھگے۔یعنی مخلوق کو فیض پہنچایا۔خُدا تعالیٰ سے قرب کا مرتبہ آپ کا یہ تھا جس طرح دو کمانوں کا وتر اکٹھا ہو کہ ایک دکھائی دے۔بلکہ خدا تعالی سے آپ کا قرب اس سے بھی بڑھا ہوا تھا۔خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی بارگاہ میں مقرب ہونے کی تمثیل قاب قوسین یعنی دو کمانوں کے وتر سے دنی ہے۔اس طرح کہ ایک طرف قوس الوہیت ہے اور دوسری طرف قوس محمدیت۔اور ان دونوں قوسوں کا وتر بالکل ایک دوسرے کے ساتھ ملحق کر دیا گیا ہے۔