شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 254 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 254

۲۵۴ یعنی تیرے زمانہ میں تیرا ولایت کا مرتبہ اور کمال سب لوگوں سے بالا ہو گا۔اور تیرا قدم سب کی گردن پہ ہو گا۔اس سے ظاہر ہے کہ انسان جب ایسا لقب کسی کے لئے استعمال کرتا ہے تو اُس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ مثلاً یہ خاتم الاولیاء اپنے زمانہ کے لوگوں سے میری نگاہ میں افضل ہے۔گویا الف لام اس جگہ عہد خارجی کا ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالے چونکہ عالم الغیب ہے۔اس لئے اگر وہ کسی کو منفرد طور پر خاتم النبيين قرار دے تو اس لقب کے حامل کا تمام انبیاء سے افضل ہونا ضروری ہوگا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی نظر سب پہلوں اور پھلوں پر ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالے کے استعمال میں اس جگہ الف لام استغراق کا ہوگا۔خاتم الاولیاء اور خاتم المحدثین کے انسان کی طرف سے دیئے گئے القاب ہیں یہ بھی تو نظر نہیں ہوتا کہ یہ خفض اولیار یا محدثین کا محض آخری فرد ہے۔بلکہ اس کے۔۔مد نظر صرف اظہار افضلیت ہوتا ہے۔ہاں جہاں صرف تاریخی حیثیت بیان کرنا مقصود ہو وہاں چونکہ خاتم کا استعمال مجازی معنوں میں ہوتا ہے۔اس لئے وہاں پر خاتم سے اس گروہ کا محض آخری فرد مراد ہوگا۔جس کی طرف وہ مضاف ہوا ہو۔مگر مجازی معنوں کے لئے قرینہ چاہیئے۔افضلیت کے معنی حقیقی معنوں کو بہر حال لازم نہیں۔ہاں اگر کوئی شخص افضلیت کے معنوں کا خاتم کی اصل وضع سے لزوم نہ جانتا ہو تو وہ خاتم کو افضل کے معنوں میں استعمال کرنے کے لئے صرف محل مدح کو مد نظر رکھے گا۔یا خاتم کے مجازی معنی آخری ہے کہ پھر آخر کو مجاز در مجاز کے طور مجازی معنوں میں افضل قرار دے گا۔