شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 253 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 253

۲۵۳ خَاتَم کے انسانی القاب اور جدائی لقب میں فرق ام الاولياء فقام المحدثین خانم المفترین وغیرہ القا ہے جو امت کے بزرگوں کیلئے استعمال کئے گئے ہیں خاتم النبیین کا لقب اس بات میں تو اتفاق رکھتا ہے کہ ان القاب سے افاضہ کمال اور افضلیت کا اظہار مقصود ہوتا ہے لیکن انسانی القاب اور خدا تعالیٰ کے دیے گئے لقب ہیں ایک فرق الحوظ رکھنا بھی از بس ضروری ہے۔ایک انسان جب کسی کو خاتم الاولیاء یا خاتم المحدثین یا خاتم المفسرین قرار دے تو اس کا ایسا کرنا محض اجتہاد اور قیاس پر مبنی ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اپنے ارد گرد کے دوستر لوگوں کو جو اس گروہ سے تعلق رکھتے ہوں دیکھ کر اپنی سمجھ کے موافق اُن کے کمالات کی تحقیق کر کے کسی کو ایسے القاب دے دیتا ہے۔اس کی نظر اتنی وسیع نہیں ہوسکتی کہ تمام پہلوں اور آئندہ قیامت تک آنے والے افراد کو مد نظر رکھ کہ ایک شخص کو خاتم الاولیاء یا خاتم المحدثین وغیرہ کا لقب دے کیونکہ وہ عالم الغیب نہیں۔پھر انسان کا اپنے زمانہ کے باکمال لوگوں کو ایسا لقب دینا بعض اوقات مبالغہ پر بھی مبنی ہو سکتا ہے۔اور اس وجہ سے وہ ہر گز حقیقت پر محمول نہیں ہو سکتا۔حضرت پیر پیران قدس سرہ خدا تعالیٰ کی محبت میں پورے فنا ہونیو الے کو فرماتے ہیں۔بِكَ تُخْتم الْوَلَايَة- کہ تو خاتم الاولیاء ہو جائے گا شیخ عبد الحق صاحب محدث دہلوی اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں :- در زمان تو مرتبه ولایت و کمال تو فوق کمالات همه باشد۔و قدم تو برگردن همه افتد " (فتوح الغیب م۲۳)