شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 234 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 234

۲۳۴ اور وہ اُن کے متابعت احکام کی صورت تھی۔اور باطن میں خاتم الاولیاء ان چیزوں کو اللہ سے لیتے ہیں جیں ہیں دوسروں کے امام اور متبوع ہیں۔کیونکہ وہ امور کو اس کے اصلی حالات پر دیکھتے ہیں اور خاتم الاولیاء کو اس طرح دیکھنا ضرور ہے۔اسی سے باطن میں وہ طلائی خشت کے قائم مقام تھے۔کیونکہ وہ اسی معدن سے لیتے ہیں میں سے جبریل لے کر رسول اللہ کے پاس وحی پہنچاتے تھے " ترجمه فصوص الحکم مترجم مولوی عبدالغفور این مولودی اولاد علی بہاری صفحه ۱۶، ۱۷ نص شیشیه ( ۲ ) حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کا یہ بیان اپنے مضمون میں واضح ہے۔اور کسی مزید تشریح کا محتاج نہیں۔آپ کے نزدیک راس تمثیل میں خاتم الاولیاء بھی داخل ہے اور وہ ولایت کی نقرئی اینٹ کے علاوہ جو اُس کی اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت ہے، باطنی کمالات کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل فیل ہو کہ آپ کی طلائی اینٹ کے قائم مقام ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ خاتم الاولیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے بلحاظ نبوت کوئی الگ وجود نہیں رکھتا۔اس کی نبوت خلقی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی نبوتت ہے۔اس لئے وہ آخری اینٹ میں داخل ہے۔