شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 213 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 213

۲۱۳ یہ معیت مکانی ہوگی۔دوم زمانہ میں دونوں اکٹھے ہوں۔یہ معیت زمانی ہوگی۔موسم متضائفین کی صورت رکھتے ہوں جیسے بھائی دوسرے بھائی سے میت رکھتا ہے۔اور باپ بیٹے سے۔اور ایک صورت یہ ہے کہ رتبہ اور شرف میں اکٹھے ہوں۔☑ آیت زیر تغییر میں یہ آخری صورت ہی مراد ہوسکتی ہے جو رتبہ اور شرف میں اکٹھے ہونے والی صورت ہے۔پہلی صورتوں میں اجتماع محال ہے۔قرآن مجید میں کئی جگہ مع معنی من بھی استعمال ہوا ہے جو شرف اور مرتبہ کے معنوں میں ہی ہے جیسے تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ وسُورة آل عمران رکون کہ ہمیں نیک بنا کر مار - یہ معنی نہیں کہ ہم نیکوں کے ساتھ مر جائیں۔پھر منافقت سے تو یہ کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : أولَئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وپاره ۵ رکوع آخری) اس سے صاف ظاہر ہے کہ کامل توبہ کرنے والے ، مومنوں کے گروہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔اور معیت سے مراد اس جگہ بھی شرف اور رتبہ کی معیت ہے۔آیات قرآنیہ سے نبی کی آمد کا ثبوت کئی اور آیات قرآنیہ سے بھی اُمت محمدیہ میں نبی کی آمد کا امکان ثابت ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وو (1) يبنى آدَمَ إِمَّا يَأْتِينَكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمُ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمُ ايتي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا