شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 211 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 211

Fil یں آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے امتیوں کے لئے آپ کی اس تاثیر گریہ کے جاری رہنے کا اعلان خود فرما دیا ہے، اور اس طرح ختم نبوت کے مثبت پہلو عینی خاتم النبیین کے حقیقی معنے کی تغیر خود بیان فرما دی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَ الصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَيْكَ رَفِيقًاه ذلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا (سُورة النساءة ) ترجمہ : یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ اور الرسول یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وستم کی پیروی کریں گے وہ شرف دومرتبہ میں ان لوگوں کے ساتھ ہیں ان پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔نبیوں میں سے۔صدیقیوں میں ہے۔شہیدوں میں سے اور صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ہیں لحاظ رفیق ہونے کے دان کی رفاقت اعلی قسم کی ہوگی جو شرف اور مرتبہ کے لحاظ سے ہوتی ہے نہ کہ ادنیٰ قسم کی ظاہری معیت، یہ اللہ تعالی کا فضل خاص ہے اور کافی ہے اللہ خوب جاننے والا۔اس جگہ ساتھ ہونے سے مراد انعام پانے میں ساتھ ہونا ہے جو معیت کتبی پر دال ہے۔پس آیت کے یعنی ہوں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے نبوت صدیقیت - شہادت اور صالحیت کی چاروں نعمتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کو مل سکتی ہیں۔اگر میت سے مراد ک نبی معیت نہ لیں بلکہ صرف ظاہری طور پر (معیت) ساتھ ہوا مراد لیں تو آیت کے یہ معنی بن جائیں گے