شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 191
141 افضلیت تامہ کا مفہوم اخذ فرمایا ہے ؟ کیونکہ محض " آخری نبی " کے معنوں سے تو یہ افضلیت نامہ کا مفہوم اخذہ نہیں ہو سکتا۔اور نہ آخری نبی“ کے معنوں کے ساتھ افضلیت تامہ کے مجازی معنی جو ان علماء کے نزدیک شاعرانہ مبالغہ ہیں " جمع ہو سکتے ہیں۔یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دینا اب ان علماء پر واجب ہے۔مگر یکی بڑے وثوق اور کامل یقین سے کہتا ہوں کہ یہ علماء اپنے اس مسلک پر قائم رہ کہ اس سوال کا کوئی حل پیش نہیں کر سکتے۔کیونکہ اپنے مسلک کے لحاظ سے وہ تسلیم کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ خاتم النبین کے معنی حقیقی چونکہ محض " آخری نبی ہیں نہ کچھ اور اس لئے خاتم النبیین کا لقب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت نامتہ بہ انبیاء کی دلیل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ افضل النبیین کے معنے آخری نبی کے معنوں کے بالمقابل ان علماء کے نزدیک مجازی معنی ہیں۔اور مجاز کا حقیقت کے ساتھ جمع ہونا مسلمہ طور پر محال ہے۔پس جب تک وہ اپنے اس مسلک کو نہ چھوڑیں فقلتُ عَلَى الأنبياء والی حدیث کی بناء پر جو سوال پیدا ہوتا ہے، اس کا کوئی حل اُن کے پاس موجود نہیں۔اب میرا ان علماء کو دردمندانہ مشورہ ہے کہ وہ خاتم النبیین کے لقب کے افضل النبیین کے معنوں پر عمل ہونے سے انکار نہ کریں کیونکہ یہ خاتم النبیین کا ہی لقب ہے جو آنحضرت صلی اللہ عیہ وسلم کی افضلیت نامہ بر جمیع انبیاء کا روشن ثبوت ہے۔اور اسی بناء پر علامہ فخر الدین رازی علیہ الرحمہ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں :۔