شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 155
۱۵۵ در متینی کی رسم کو مٹانے کے لئے حضرت زینت سے نکاح کر لیا تو مخالفین نے آپ پر یہ اعتراض کیا کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا ہے کیونکہ آپ نے زید کو متبنی بنا رکھا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُم که محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم مردوں میں سے کسی کے باپ ہی نہیں۔لہذا نہ زیدیہ آپ کا بیٹا ہے اور نہ زینب رضی اللہ عنہا آپ کی بہو تھیں۔جن سے زید کے طلاق دینے پر آپ نے اپنا نکاح کیا ہے گویا آیت کے اس حصہ میں آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کی ابوت جسمانی کی بلحاظ بالغ نرینہ اولاد رکھنے کے نفی کی گئی ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے حرف الکین استعمال کرتے ہوئے فرمایا ہے وَ لكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَم النبيين - حرف الكن استدراک کے لئے استعمال ہوتا ہے۔لینی پچھلے کلام میں اگر کوئی شبہ یا و ہم پیدا ہوتا ہو تو اس کے بعد الکین کا لفظ ذکر کر کے جو کلام لایا جاتا ہے اس سے اس پیدا ہونے والے شبہ یا وہم کو دور کرنا مقصود ہوتا ہے۔چنانچہ شرح جامی میں جو عربی مسلم نو کی مستند کتاب ہے لکھا ہے :۔لكن الاسْتِدْرَاكِ۔فَمَعْنَى الْاِسْتِدْرَاكِ دَفَعُ تَوَهُم مِنْ كَلَامِ الْمُقَدَّمِ بَيْنَ كَلَا مَيْنِ مَتَغَابُرَيْنِ نَفْيَّا وَإِثْبَاتًا مَعْنى " که الکن کا لفظ استدراک کے لئے (یعنی تدارک مافات کیلئے )