شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 148
۱۴۸ حضرت امام علی القادری علیہ الرحمہ کی اس عبارت سے بھی ظاہر ہے کہ سیح موعود کی وی کو جو احکام شریعت پرشتمل ہو بیان احکام شریعت ہی قرار دیا گیا ہے اور اس وحی کے باوجود مسیح موعود کو تابع نبی ہی قرار دیا گیا ہے۔نہ کہ تشریعی نبی۔اور امام عبدالوہاب شعرانی الیواقیت والجواہر جلد ۱۲ م بحث عام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لکھتے ہیں :- فَيُرْسَلُ وَلِيَّاذَا نُبُوَّةٍ مُطْلَقَةٍ وَيُلْهَمُ بِشَرْعِ مُحَمَّدٍ وَيَنْهَمُهُ عَلَى وَجْهِهِ " یعنی عیسی علیہ السلام نبوت مطلقہ کے ساتھ ولی کر کے بھیجے جائیں گے۔اُن پر شریعت محمدیہ الہاما نازل ہوگی۔وہ اس کو ٹھیک ٹھیک سمجھیں گے " اب دیگو سیه موعود پر شریعت محمدی کا الہاما نازل ہونا ہی تسلیم کیاگیا ہے مگر اس کے باوجود انہیں غیر تشریعی اور تابع نبی ہی سمجھا گیا ہے۔اسی لئے ان کو انبیاء الاولیاء میں شامل کیا گیا ہے۔پس علماء امت کے نزدیک مسیح موعود اس طرح شریعت محمدیہ کے الہاما پانے سے ان الہامات کے احکام شریعیہ پرمشتمل ہونے کی وجہ سے ایک رنگ میں صاحب الشریعت تو ہوا مگر اُسے صاحب شریعت جدیدہ نہیں سمجھا جاتا۔اور نہ اجد از نز دل تشریعی نبی قرار دیا جاتا ہے۔اولیاء اللہ پرعلوم شرعیہ کا الہانا اگلتا حضرت مجددالف ثانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :-