شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 135
صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اپنی شان یہ بیان فرمائی کہ میں تمام انبیاء سے افضل ہوں حالانکہ مکہ شریف میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ آپ كَانَةٌ لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرا ہیں۔اور یہ امر آپ کی تمام انبیاء پر افضلیت کی دلیل تھا۔مگر آپ نے اسے اجتہادا وجہ فضیلت قرار نہ دیا۔لیکن بعد میں جب خاتم النبیین کی آیت نازل ہوئی تو آپ نے اس بات کو بھی تمام انبیاء پر اپنی فضیلت کی وجہ قرار دے دیا۔(دیکھو حدیث فضیلت على الانبار صحیح مسلم باب الفضائل) اس میں ایک وجہ اپنی فضیلت بر انبیاء کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارسلت إلى كافة لِلنَّاسِ بیان فرمائی ہے۔پس خدا تعالٰی کے مامورین ایسے امور میں بڑے محتاط ہوتے ہیں۔بن بلائے نہیں بولتے بلکہ خدا تعالیٰ جوں جوں اُن کی شان کے متعلق پردہ اُٹھاتا جاتا ہے اور اُن پر حقیقت منکشف ہوتی جاتی ہے وہ اس کا اعلان کرتے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں : " جب تک مجھے اُس (خدا تعالیٰ۔ناقل ) سے علم نہ ہوا میں دہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا۔اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اُس کے مخالف کہا " (حقیقۃ الوحی منشا ) لیکن اس جز دی تبدیلی کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عقیدہ میں بلحاظ حقیقت و کیفیت ہرگز کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔شروع سے لے کہ آخر تک آپ کا یہ دعوی رہا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہیں۔اور وہ آپ سے بکثرت ہے۔اور آپ پر امور غیبیہ کا اظہار کرتا ہے اور آپ اقوام عالم کی صلاح کلام