شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 115
۱۱۵ ہے جو اب یہ ہے کہ نبوت میں ایسا علم ہوتا ہے جس کے، انسان مکلف کئے جاتے ہیں۔اور محدثین کی حدیثوں کا انہیں با لکل مکلف نہیں کیا جاتا۔یہ فرق تشریعی انبیاء کے مقابلہ پر ہے۔لیکن اگر اصحاب نبوت مطلقہ مراد نہیں تو محدث اس کے اصحاب جزو ہیں۔ہیں وہ نبی جو غیر تشریعی ہو وہ راس الاولیاء ہوتا ہے۔اور جامع المقامات یعنی ان مقامات کا جامع جن کو وہ اسماء الہیہ چاہتے ہیں جن میں شریعت نہیں ہے۔محدث کو صرف تحدیث اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے امور اور اعمالی اور مقامات حاصل ہوتے ہیں۔پس ہر نبی ضرور محدث ہوتا ہے اور ہر محدث بنی نہیں ہوتا۔اور یہ سب انبیاء الاولیاء ہیں۔لیکن وہ نبی جو نئی شریعتیں رکھتے ہیں اُن کے دلوں پر ارواح ملائکہ اوامرو نواہی کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔د فتوحات مکیہ جلد ۲ مشکونه بلحاظ ایڈیشن مختلفه) حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ نے اس جگہ نبی الاولیاء کی اصطلاح کو غیر تشریعی انبیاء اور محدثین میں اس طرح مشترک قرار دیا ہے کہ غیر تشریعی انبیاء تو نبوت مطلقہ کو کامل طور پر رکھتے ہیں اور محمد تین جزوی طور پر۔پس محمد مشین پر انبیاء الاولیاء کی اصطلاح کا اطلاق نبوت مطلقہ کے لحاظ سے جزوی طور پر ہو گا۔اور غیر تشریعی انبیاء الاولیاء نبوت مطلقہ کے پورے حقدار ہوں گے۔یه فرق ملحوظ رکھنے سے وہ مشبہ بالکل زائل ہو جاتا ہے ایک شبیہ ازالہ جو بعض لوگوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت