شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 110 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 110

" وَالأمَّةُ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ صَدَّقُوا مَا جَاءَ بِهِ مِنْ عِنْدِ الله المُتَمَتِلُونَ بِالثَّقَلَنِ (تفسیر صافی زیر آیتِ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا سورة آل عرا) ه مونون گرد بھی انہوں نے رحمت صلی الہ علیہ وآلہ سلم کی دریا در شرایت کی تصدیق کی ہے اور ثقلین سے تمشک کیا ہے آل محمد میں شامل ہیں۔پس امت محمدیہ کے اندر نبوت کو حضرت محی الدین ابن عربی کی طرح شیعہ بزرگ نے بھی جاری اور ساری تسلیم کیا ہے۔انبياء الأولياء والی نبوت کی شان اور سیح موعود کامرتبہ بالآخر یہ بات یاد رہے کہ یہ انبیاء الاولیاء والی نوت بزرگان امت کے نزدیک کوئی ادنی قسم کی نبوت نہیں۔حضرت پیران پر شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ نے اس مقام کے پانے والے کے متعلق لکھا ہے کہ اس کا حق ابنیاء سے برابر کا ہے اور حضرت محی الدین ابن عربی اس مرتبہ کے پانے والوں کو نبوت مطلقہ کا حامل قرار دیتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں : يَنزِلُ وَلِيَّا ذَا نُبُوَّةِ مُطْلَقَةٍ يَشْرَكَهُ فِيهَا الْأَوْلِيَاءُ الْمُحَمَّدِيُّونَ فَهُوَ مِنًا وَهُوَ سَيْدُنَا (فتوحات مکیه جلد ا ا) یعنی مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ ایسے ولی ہوں گے جنہیں نبوت مطلقہ حاصل ہوگی۔اور اس نبوت مطلقہ میں اُن کے ساتھ خاص خاص محمدی اولیاء بھی شریک ہیں ہیں وہ ہم میں سے ہیں اور ہمارے سردار ہیں۔