شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 109
1۔9 اور پھر آگے چل کر فرماتے ہیں :۔نَقَطَعْنَا انَّ فِي هَذِهِ الْأَمَةِ مَنْ لَحِقَتْ دَرْجَتُ رجة د فتوحات مکیہ جلد اول صفحه ۵۶۹ و ۵۷۰) ہم نے قطعی طور پر جان لیا ہے کہ اس امت میں وہ شخص بھی ہیں جن کا درجہ اللہ تعالے کے نزدیک نبوت میں انبیاء سے مل گیا ہے۔نہ کہ شریعیت لانے میں " شیعوں کے بزرگوں کا استدلال شیعہ اصحاب کے ائمہ بھی درود شریف سے یہی استدلال کرتے ہیں۔چنانچہ ابو جعفر ابراہیمی نسل کی نعمتوں (التوسل : الانبياء والاولیاء کے ذکر پر فرماتے ہیں :۔فكيف يُقِرُّونَ فِي اللِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَيُنْكِرُونَهُ في الِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ " انصافی شرح اصول الکافی جزو ۳ صفحہ ۱۱۷ و ایضا صفحہ ۱۱۹) ینی کس طرح یہ لوگ آل ابراہیم میںتو رسل و انبیاء اور ائمہ کے پائے جانے کا اقرار کرتے ہیں لیکن آل محمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم می ان نعمتوں کے پائے جانے کے منکر ہیں۔آل محمد سے مراد امام بعدم صادق آل محمد میں امت کو بھی شامل کرتے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔