شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 108
۱۰۸ حضرت یا الدین این را دارد و شراب است می نی بون یا الهلال درود شریف سے جو استدلال میں نے پیش کیا ہے یہی استدلال حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے اپنی کتاب فتوحات مکیہ جلد اول کے صفحہ ۵۶۹ و ۵۷۰ پر بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔چنانچہ شروع میں وہ یہ بتاتے ہیں کہ آلِ محمد سے کیا مراد ہے۔فرماتے ہیں :۔وو واعلم ان ال الرَّجُلِ فِي لُغَةِ العَرَبِ هُمْ خَاصَّتُهُ الْأَقْرَبُونَ إِلَيْهِ وَخَاصَّةُ الانْبِيَاءِ وَالهُمْ هُمُ الصَّالِحُونَ الْعُلَمَاء بِاللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ " یعنی جان لو کہ عربی زبان میں ایک آدمی کی آل سے مراد اس کے خاص اقارب ہوتے ہیں۔اور انبیاء کے خواص اور اُن کی آل مومنوں میں سے صالح علماء باللہ ہوتے ہیں۔پھر پوری تفصیل کے ساتھ بحث کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں :- نَكَانَ مِنْ كَمَالِ رَسُولِ اللَّهِ اَنْ اَلْحَقِّ الهُ بِالْأَنْبِيَاءِ في الرتبة - وَزَادَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ بِأَنَّ شَرْعَةً یعنی یہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا کمال ہے کہ آپ نے درود شریف کی دعا کے ذریعہ اپنی آل کو رتبہ میں انبیاء سے ملا دیا۔اور ابراہیم سے بڑھ کر آپ کو یہ بات حاصل ہوئی کہ آپ کی شریعیت منسوخ نہ ہوگی۔