شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 88
^^ بب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے۔اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہیت کے لئے محض بروز اور ظلیت اور نانی الرسول کا دروازہ کھلا ہے “ (ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ) پھر نزول مسیح مسلہ پر فرماتے ہیں :۔میں نبی اور رسول نہیں ہوں باعتبار نے دعویٰ اور نئے نام کے۔اور میں نبی اور رسول ہوں یعنی باعتبار طلبیت کاملہ کے وہ آئینہ ہوں جس میں محمد ہی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے ؟" مولوی محمد اور میں صاحب اپنی کتاب ختم النبوة ما پر لکھتے ہیں :- ادریس یہ اللہ اور رسول کے ساتھ استہزاء ہے کہ مال چوری بھی ہو گیا اور پر نہیں ٹوٹی " در اصل به مولوی محمد اد میں صاحب کاخاتم النبیین صلی الہ علیہ وسلم کی قلت سے استہزاء ہے۔ورنہ ختم نبوت کی طلبیت کے دروازہ سے نبوت پانا چوری نہیں۔حضرت مرزا مظہر جان جانان " " مقامات مظہری منہ پر رقمطراز ہیں : " بر نبوت مستقلہ کوئی کمال ختم نہیں ہوا یعنی ممکن نہیں کہ خلافتی طور پر کمالات نبوت کو بند کر د یو سے کیونکہ اس میداد فیض میں بخل اور دریغ ممکن نہیں۔ختم نبوت کی طلبیت کی راہ سے نبوت پانے کو مولوی محمد اد میں صاحب چوری قرار دیتے ہیں۔مگر حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ اسے ایک شاہراہ قرار دیتے