شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 67
46۔ہاں آخری شارع اور آخر می تنقل بنی مراد لینا درست ہے اور یعنی ہمیں مسلم ہیں ہے بہر حال جب دوسرے علماء اور سلمانوں کے تمام فرقے حضرت عیسی علیہ السلام کے آنے کے قائل ہیں۔باوجودیکہ اس سے اُن کے عقیدہ میں قضاء بھی لازم ہے تو پھر جماعت احمدیہ کو اُن کا منکر ختم نبوت کا الزام دینا سراسر حکم اور سینہ زوری ہے۔کیونکہ جماعت احمدیہ ان تمام فرقوں کے عقیدہ کے آئی اور ما حصل سے اصولی طور پر اتفاق رکھتی ہے۔اس لئے اگر جماعت احمدیہ مسکر ختم نبوت ہے تو پھر وہ سب فرقے بھی منکر ختم نبوت قرار پاتے ہیں جو حضرت عیسی علیہالت کام کی آمد کے قائل ہیں۔پس خاتم النبیین کا مقام احادیث نبوئی اور متقین ائمہ اور بزرگان دین کے نزدیک تابع اور اتنی نی یعنی غیر مستقل نبی کی آمد میں روک نہیں اور ایسی نوستن ختم نبوت کے منافی نہیں بلکہ یہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا فیض اور پر تو اور فل ہے۔اور کام اس کا نبوت تشریعیہ محمدیہ کی تائی۔اور اسلام کی تجدید ہے۔مولادی عبدالماجد صاحب کی تصریح مولوی عبد الماجد صاحب رقمطراز ہیں کہ : جہاں تک میری نظر سے خود باقی سلسلہ احمدیہ جناب مرزا صاحب مرحوم کی تصنیفات گزری ہیں اُن میں بجائے ختم نبوت کے انکار کے اس عقیدہ کی خاص اہمیت مجھے ملی ہے۔بلکہ مجھے ایسا یاد عہ کیونکہ یعنی خاتم النبین کے حقیقی معنے کے لوازم میں سے ہیں۔منہ