سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 88 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 88

88 دیکھنے کے لئے خود بورڈنگ میں تشریف لے گئے اور بہت دیر تک دعا فرمائی۔اس کے بعد طبیعت معجزانہ طور پر سُدھرنے لگی اور خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے فاضل بھائی کونئی زندگی حاصل ہوئی۔یقیناً حضرت رسول کریم صلی اللہادی اور سلم نے یہ جو فرمایا کہ موت نہیں ملتی مگر دعا سے یہ حقیقت ہم نے صاف طور پر اپنی آنکھوں سے دیکھی الْحَمْدُ لله (۲) میری تیسری لڑکی عزیزہ ہاجرہ بیگم کے پیٹ میں یکا یک درد ہو گیا۔ہم نے اپنے قریب رہنے والے سرکاری خطاب یافتہ ڈاکٹر کو جو آنریری مجسٹریٹ بھی ہیں بلوایا انہوں نے دیکھ کر کہا کہ لڑکی کے پیٹ میں پیپ پڑ گئی ہے فوراً اپریشن کر کے نکلوا دینی چاہئے ورنہ جان کا خطرہ ہے۔دسمبر کا مہینہ تھا مجھے سالانہ جلسہ پر ایک دو روز میں قادیان جانا تھا ادھر یہ حالت ہوگئی پھر ہم نے یہاں کے ہاسپٹل کے بڑے یورپین ڈاکٹر کو بلوایا۔اس نے معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ نہ پیپ ہے اور نہ اپریشن کی ضرورت۔ہم سب یہ سنکر بہت خوش ہوئے اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا مگر پہلا ڈاکٹر اپنی رائے پر اڑا رہا کہ پیپ یقینا ہے فوری آپریشن کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر اگرلڑ کی بیچ جائے تو میں اپنی ڈاکٹری چھوڑ دوں گا۔میں دوسرے روز قادیان روانہ ہو گیا۔وہاں سے واپس آنے تک لڑکی اچھی رہی مگر اس کے بعد یکا یک ناف میں سوراخ ہو گیا اور اس قدر پیپ نکلی جس کی کوئی حد نہ رہی۔ہم نے پھر اسی ڈاکٹر کو بلوایا۔جس نے کہا تھا کہ پیپ ہے۔اور آپریشن کے لئے رضامند ہو گئے۔مگر اس نے کہا کہ لڑکی کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔اب آپریشن کا وقت نہیں رہا۔اب یہ کیسی مایوس کن ہو گیا ہے۔ہم نے دیکھا کہ اب کوئی علاج نہیں سوائے دعا کے۔میں نے فوراً ایک تار حضرت (خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ ) کی خدمت میں اور دوسرا ”الفضل“ کو روانہ کیا۔اور پھر ایک بار حضور کی دعا کا معجزانہ نتیجہ دیکھا۔کہ بغیر کسی ڈاکٹری علاج کے صرف ایک معمولی دائی کی دوائی سے میری پیاری لڑکی کامل صحت پاگئی۔الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ (۳) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق