سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 86
86 بعد نجات پا کر واپس آ گیا۔ورنہ بظاہر کوئی امید نہ تھی۔“ الفضل ۲۸ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۵۳) مکرم ملک حبیب الرحمان صاحب جو محکمہ تعلیم کے ایک نیک نام افسر تھے اور جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد اہم جماعتی خدمات بجالانے کا بھی موقع ملا شدید بیماری سے معجزانہ صحت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : - دسمبر ۱۹۳۷ء میں میں در دجگر، در دمعدہ اور در دامعاء کی وجہ سے سخت بیمار ہوا اور پھر ہر مہینہ میں مجھے اس درد کا شدید دورہ پڑنے لگا۔میں نے ڈاکٹری اور دیسی علاج کثرت سے کئے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ایکسرے بھی کرایا گیا لیکن لا حاصل ۱۹۳۹ء کے فروری اور مارچ کے مہینوں میں مرض کے جو دورے پڑے ان میں شدید بخار بھی ہو جا تا رہا اور میں ایک ایک ہفتہ چار پائی سے نہ اٹھ سکتا۔ماہ اپریل ۱۹۳۹ء میں بغرض مشورہ سول ہسپتال امرتسر گیا۔وہاں کے مشہور ڈاکٹروں نے بھی مشورہ دیا کہ پتہ میں پتھری پیدا ہونے اور اپنڈیسائٹس کی وجہ سے یہ تکلیف ہے۔اور ہر دو مقامات کا اپریشن کرانا ضروری ہے۔۱۴۔اپریل حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے حضور حاضر ہوا۔اور اپنی بیماری کا مفضل ذکر کیا۔حضور نے فرمایا۔آپ کو اپنڈیسائٹس(APPENDICITIS) تو نہیں ہے البتہ دوسری بیماریاں ہو سکتی ہیں۔آپ رخصت لے کر علاج کرائیں۔جب میں شجاع آباد واپس آیا۔تو مجھے سخت بخار اور پیچش کی شکایت ہوگئی اور اس کے ایک دن بعد بیماری مذکورہ کا شدید دورہ ہوا۔اتنا شدید کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔میں نے اسی وقت حضرت (خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کے حضور دعا کے لئے تار بھجوایا۔بیماری کی شدت کے باعث ہر ایک کو یہ خیال تھا کہ اگر جانبر ہو گیا تو بھی کئی دن تک بستر پر رہوں گا لیکن حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ میں دوسرے دن ہی چلنے پھرنے لگ گیا اور ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ لے کر ملتان میں افسرانِ بالا سے رخصت لینے کی غرض سے گیا لیکن وہاں پہنچ کر بجائے رخصت لینے کے ایک حکیم صاحب کا علاج شروع کرایا اور ایک ماہ بعد مرض میں بہت تخفیف ہو گئی اور معمولی سا دورہ ہوا اور