سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 68 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 68

68 ہوا؟ کس طرح قادیان سے نکلنے کے بعد پھر یہ ساری جمعیت ایک جھنڈے تلے جمع ہوئی اور پھر کس شان و شوکت سے اسلام کی تبلیغ چار دانگ عالم میں پہنچی۔کس طرح زیادہ سے زیادہ حق کی تڑپ و جستجو رکھنے والے احمدیت کے اس دوسرے مرکز میں جوق در جوق پہنچے۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلَى ذَلِكَ۔ایک اور واقعہ زمانہ قریب کا ہے جو اس مستجاب الدعوات کی شان نزول کا شاہد ہے۔پارٹیشن کے بعد خاص مشکلات کا سامنا رہا۔اسلام دشمنی کے سند یافتہ کب پیچھا چھوڑ سکتے تھے۔محض اور محض احمدیت کی دشمنی کی بناء پر جب عزیز محترم میاں ناصر احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ) اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو قید کر لیا گیا آپ کا پریشان ہونا ایک قدرتی امر تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اس لحاظ سے ضرور مطمئن تھے کہ میرا بیٹا اور بھائی محض اس مجرم میں ماخوذ ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور دین محمدمصطفیٰ (صلی اللہادی او سلم ) کے علمبر دار ہیں۔اور دین کے راستہ میں آزمائش بھی سنت نبوی ہے۔گرمیوں کے دن تھے اور پھر ربوہ کی گرمی۔عشاء کے وقت ہم حسب معمول صحن میں تھے۔با وجود او پر کی منزل میں ہونے کے گرمی کی شدت میں کمی نہ تھی۔رات کا کھانا ہم اکٹھے کھا رہے تھے۔اس دوران میں آپ نے گرمی کی شدت اور اس سے بے چینی کا اظہار فرمایا۔میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔پتہ نہیں میاں ناصر (خلیفتہ امسح الثالث ) اور میاں صاحب کا اس گرمی میں کیا حال ہوگا ؟ خدا معلوم انہیں وہاں ( جیل میں ) کوئی سہولت بھی میسر ہے یا نہیں آپ نے جوا با فر مایا: - اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے وہ صرف اس مجرم پر ماخوذ ہیں کہ ان کا کوئی جرم نہیں۔اس لئے مجھے اپنے خدا پر کامل یقین وایمان ہے کہ وہ جلد ہی ان پر فضل کرے گا۔“ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ عشاء کی نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔گریہ وزاری کا وہ منظر میں بھول نہیں سکتی میں اس کیفیت کو قلم بند نہیں کر سکتی۔جو اس وقت میری آنکھوں نے دیکھا۔اس گریہ میں تڑپ اور بے قراری بھی تھی ، اس میں ایمان و یقین کامل کا بھی مظاہرہ تھا، اس میں ناز اور ناز برداری کی سی کیفیات بھی تھیں۔یہی منظر پھر میں نے تہجد کے وقت دیکھا۔اس وقت حضرت مصلح موعود دعائیں بلند آواز سے نہایت عجز اور رقت کے ساتھ مانگ رہے تھے۔مجھے یوں لگتا تھا کہ ساری فضا اور آپ کے اس درد و کرب میں ڈوبے ہوئے نالہ و شیون نے مجھ میں ایک ایسا ایمان ویقین پیدا کر دیا کہ میں بر ملا کہنے لگی کہ یہ دعا رائیگاں انشاء اللہ نہیں جائے گی۔اس