سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 617
553 نے فرمایا کہ اپنے دوستوں کو بلالیں چنانچہ میں نے سب کو بلا لیا وہ حلقہ باندھ کر بیٹھ گئے میں نے عرض کیا کہ حضور کچھ ارشاد فرما ئیں حضور خدمتِ خلق کو شعار بنانے کی تلقین فرماتے رہے اس پارٹی میں کراچی کا ایک اخبار نویس بھی تھا۔حضور نصائح کے درمیان چند سیکنڈ خاموش بھی ہو جاتے تھے مگر کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔جب ہم اجازت لے کر واپس آئے تو بعض سکاؤٹس نے اس اخبار نویس سے کہا کہ آپ کوئی سوال کرتے تو اس اخبار نویس نے کہا کہ میں مرزا صاحب سے اچھی طرح واقف ہوں ان کے سامنے بولنا اپنی علمی پردہ دری کرانے والی بات ہوتی ہے“ دوسرا واقعہ سکھر کا ہے:۔”ایک دفعہ حضور کوئٹہ سے واپس ہوتے ہوئے سکھر میں ایک دو یوم ڑکے تھے کیونکہ سکھر کے راستہ میں سیلاب کی وجہ سے شگاف پڑ گیا تھا۔اور راستہ بند ہو گیا تھا۔حضور کے سکھر کے قیام کے دوران سب دوست اپنے غیر از جماعت دوستوں کو ملانے لاتے تھے۔میں ایک دوست کو جو اکثر اپنے علم کی ڈینگ مارتے تھے ملانے لایا حضور مجلس میں تشریف فرما تھے دوست بعض سوالات کرتے تھے حضور جواب دیتے تھے مگر وہ شخص شروع سے آخر تک خاموش ہی رہا۔جب مجلس برخاست ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے کوئی سوال نہیں پوچھا اس نے بھی بے ساختہ کہا کہ یہاں بولنا گویا اپنی پردہ دری کرانے والی بات تھی۔وہ ایک شدید مخالف تھا مگر حضور کی گفتگو اتنی مؤثر تھی کہ اس نے کہا کہ میں تو یہی سمجھتا رہا کہ میں یہاں سے اپنا ایمان سلامت لے جاؤں تو بڑی بات ہے حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب ایک ڈاکٹر جناب غلام محمد صاحب انچارج کلینیکل لیبارٹری میوہسپتال لاہور کے متعلق مندرجہ ذیل دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں : و کرنل الہی بخش صاحب نے مختلف قسم کے امتحان قارورہ و دخون کے تجویز کئے اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب انچارج کلینیکل لیبارٹری میوہسپتال سے امتحانات کروانے تجویز کئے۔حضرت صاحب نے انہیں فوراً ربوہ لانے کے