سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 573
515 ابھی ابوالمنیر نہیں بنے تھے ) چند اور دوستوں کے ہمراہ رادھا سوامیوں کے گورو سردار ساون سنگھ صاحب کے درس میں شامل ہوئے۔وہاں گورو صاحب سے ہماری کچھ اس طرح تکرار ہو گئی کہ گورو صاحب نے حضور کی خدمت میں اس کا تذکرہ کر دیا اور ( حضور نے ) ہمیں ڈانٹ پلائی کہ آپ کا کیا حق تھا کہ ایک جماعت کے گرو کے درس میں جا کر اس طرح تکرار کرتے۔اگر کوئی میرے درس میں آکر اس طرح بولے تو کیا تم اچھا سمجھو گے وغیرہ وغیرہ۔جمعہ کے بعد مولوی نور الحق صاحب کہنے لگے کہ یہ تو خطبہ تھا اب بعد میں جو ہماری شامت آئے گی وہ دیکھنا اور تمہیں تو شاید کچھ نہ کہیں میری انہوں نے اب خوب گت بنانی ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب آپ بالکل فکر نہ کریں۔جب حضور اب یہ بات شروع کریں ، آپ مجھے بولنے دیں میں پھر معاملہ سنبھال لوں گا۔ایسا ہی ہوا جمعہ کے بعد جب کمرے کے سب دوست باہر نکلے تو حضور نے غصے کے لہجے میں مولوی نور الحق صاحب کو پکارا کہ مولوی صاحب آخر آپ کو کیا خیال آیا کہ آپ نے ان کا درس خراب کیا۔مولوی صاحب نے مجھے آگے کر دیا۔میں نے کہا کہ حضور پہلے ساری بات سن لیں انہوں نے اپنے درس میں اسلام پر اعتراضات کئے اور انبیاء کے متعلق توہین آمیز الفاظ بولے۔ہم نے اس کا جواب دینا چاہا تھا حضور نے فرمایا کہ آپ اُٹھ آتے اور پھر ذرا غصے میں آنے لگے تو میں نے عرض کیا کہ حضور پہلے ساری بات سن لیں۔فرمایا اچھا سناؤ۔میں نے سارا قصہ ایسے رنگ میں بیان کیا کہ حضور بے اختیار ہنس پڑے اور سارا 6 go غصہ کا فور ہو گیا اور فرمایا کہ نہیں آئندہ ایسا نہیں کرنا۔احتیاط کیا کرو۔اس تھوڑے سے عرصے میں جو میں حضور کے قریب رہا میں نے حضور کو بہترین مربی ، معلم اور بہترین امام پایا جو اپنے خدام پر بے مثال رُعب بھی رکھتا ہو ساتھ ہی اس نے بُری طرح سے محبت کی زنجیروں میں بھی انہیں جکڑا ہوا ہو۔حضور کی ناراضگی کا ذرا سا خیال بھی ہماری تمام خوشی کو پامال کر دیتا تھا بس وہی مثال صادق آتی ہے جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ارشاد میں یوں تذکرہ فرمایا کہ : -