سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 565 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 565

507 کے جلسہ سالانہ پر آپ نے برکات خلافت کے موضوع پر ایک معرکۃ الآراء تقریر فرمائی اس تقریر میں آپ نے فرمایا تمہارے لئے ایک شخص تمہارا در د ر کھنے والا، تمہاری محبت رکھنے والا ، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا ، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا اور تمہارے لئے خدا کے حضور دعا کرنے والا ہے۔( برکات خلافت صفحه ۵) حضرت اقدس کی یہ ۱۹۱۴ء کی تقریر ہے۔حضور کا وصال نومبر ۱۹۶۵ء میں ہوا اس اتنے لمبے عرصہ کا ایک ایک دن اس امر پر شاہد ہے کہ حضرت فضل عمر نے جو الفاظ اپنے عہد مبارک کے پہلے جلسہ سالانہ پر بیان فرمائے تھے آپ کی ساری زندگی ان کے مطابق بسر ہوئی۔دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھا اور جب بھی جماعت کے کسی فرد کو تکلیف میں دیکھا اپنے آرام کو ترک کر دیا اور اس کی تکلیف کو دور کرنے کی سعی دعا اور دوا دونوں طرح کی۔۔۔۔قادیان دارالامان کا واقعہ ہے بٹالہ میں احمدی اور غیر احمدی علماء کا مناظرہ تھا۔اُن دنوں مناظرے اور مباحثے کثرت سے ہوتے تھے۔بٹالہ میں جماعت احمدیہ کی مخالفت بہت تھی اس لئے قادیان اور دیگر قریبی جماعتوں کے احمدی احباب مناظرہ میں شمولیت کی غرض سے بٹالہ پہنچے ہوئے تھے۔مناظرہ چونکہ دو دن تھا اس لئے بہت سے احمدی احباب شہر سے متصل کمپنی باغ میں ڈیرہ ڈالے تھے ، گرمی کے ایام تھے، اہل بٹالہ نے حسب عادت بڑھ چڑھ کر مخالفت کی اور دُکانداروں کو احمدی احباب کو کھانے پینے کی چیزیں دینے سے روک دیا گیا۔رات عشاء کی نماز کے بعد حضرت فضل عمر کو قادیان میں یہ رپورٹ پہنچی کہ بٹالہ میں جماعت کے دوست باغ میں مقیم ہیں اور انہیں کھانا نہیں ملا یہ خبر سنتے ہی حضور بے چین ہو گئے ابھی آپ نے خود بھی کھانا نہیں کھایا تھا اُس وقت محترم مولانا مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل کو بلوایا۔آپ اس وقت مقامی جماعت کے پریذیڈنٹ تھے میں مقامی جماعت کا سیکرٹری ہونے کی وجہ سے آپ کے ہمراہ تھا۔جب ہم مسجد مبارک کی بالائی چھت پر پہنچے تو حضور بڑے اضطراب