سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 564 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 564

506 سے ڈولی لے جاتا ہے۔منشی صاحب محترم نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا اور میں نے بھی حضور کو اطلاع دی کہ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں دعا فرما دیں اس آڑے وقت میں حضور نے نہایت شفقت اور ہمدردی سے خاکسار ناچیز کی مدد فرمائی۔آپ نے سب سے پہلے تو کپورتھلہ میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو لکھا کہ کپورتھلہ کی ساری جماعت آلوپور پہنچ جائے، دوسرے خانصاحب عبدالمجید خان صاحب جو ان دنوں سلطان پور میں علاقہ مجسٹریٹ تھے ان کو لکھا کہ آپ اپنا دورہ ان ایام میں آلو پور میں رکھیں، تیسرے قادیان سے برات میں میرے ساتھ حضور نے خاص خاص آدمیوں کو ہمراہ کر دیا۔مثلاً حضرت خان بہادر غلام محمد صاحب آف گلگت، ملک نواب دین صاحب بی۔اے۔بی۔ٹی، جناب مولانا رحمت علی صاحب مبلغ سماٹرا، حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی وغیرہ۔چنانچہ جب میری بارات سلطان پور کے سٹیشن پر اتری تو حضرت منشی ظفر احمد صاحب مع کپورتھلہ کی جماعت کے وہاں موجود تھے اور مزید یہ کہ حضرت منشی صاحب ایک عدد ہاتھی بھی کپورتھلہ سے ساتھ لائے کیونکہ آپ مہاراجہ کپورتھلہ کے اہل کار تھے اور مہاراجہ صاحب ایسے موقعوں پر اپنے اہلکاروں کو ہاتھی دیدیا کرتے تھے۔غرض یہ بارات خوب ٹھاٹھ سے روانہ ہوئی۔آلو پور پہنچ کر خان بہادر غلام محمد صاحب نے اپنی بندوق سے دو تین فائر بھی کر دیئے۔محترم خان عبدالمجید خانصاحب علاقہ مجسٹریٹ پہلے سے حاضر تھے۔خدا کے فضل سے ایسا رعب پڑا کہ کسی مخالف کو شرارت کی جرات نہ ہوئی اور ہم بخیر و عافیت ڈولی لے کر واپس لوٹے۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضرت اقدس کی اپنے ادنیٰ خادم سے محبت و شفقت کا نتیجہ تھا ورنہ دنیاوی طور پر اس وقت میری کوئی حیثیت نہ تھی۔مکرم ملک محمد عبداللہ صاحب فاضل پیار و شفقت کی اس نہ ختم ہونے والی داستان کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: - حضرت خلیفہ المسیح الثانی ۱۹۱۴ء میں مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے اس سال خلیفۃالمسیح /////////