سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 555
497 کی راہ میں بے دریغ خرچ کرتے ہیں مگر اپنی ذات پر نہیں کرتے اور یہ بہت خوبی کی بات ہے۔میں نے یہ نہ سمجھا کہ اشارہ میری طرف ہی ہے اور اردگرد دیکھنا شروع کر دیا کہ مجلس میں کون ایسے مخلص دوست ہیں جن کی تعریف ہو رہی ہے۔حضور نے میری طرف مخاطب ہو کر پھر صاف فرما دیا کہ میں تو آپ کا ہی ذکر کر رہا ہوں۔ستمبر اکتوبر ۱۹۲۴ء کو حضرت جب پہلے سفر لندن سے واپس آئے تو امرتسر کے اسٹیشن پر عاجز حضور کو ملا۔گاڑی کے ڈبہ میں حضور اور صرف حافظ روشن علی صاحب تھے۔حضور اس وقت غسل خانہ میں ہاتھ دھو رہے تھے۔عاجز حضور کو دیکھ کر اٹھنے لگا تو حضرت حافظ صاحب نے فرمایا۔باہر مت نکلو۔بیٹھے رہو۔امرتسر کی جماعت نے کھانا پیش کیا۔ایک پلیٹ میں پلاؤ تھا جس پر سالن بھی تھا۔میں ادب کی وجہ سے شامل نہ ہوا۔حضور اور حافظ صاحب نے شروع کر دیا مجھے متردد دیکھا فرمایا۔Why don't you eat ( تم کیوں نہیں کھاتے ) عرض کی ویسے ہی۔فرمایا۔کیا پہلے کھا چکے ہو۔عرض کی نہیں۔پھر فرمایا ہمارے ساتھ کھاؤ۔عاجز یونہی ہاتھ مارتا رہا اور جب حضور چند لقمے لے کر ہاتھ دھونے چلے گئے تو عاجز نے حضور کے تبرک والا حصہ اپنی طرف سرکا کر وہاں سے کھانا شروع کر دیا اور اس طرح ایک خواب پورا ہوا۔دیکھا تھا کہ میں حضرت صاحب کے ساتھ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھا رہا ہوں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ تبرک لینے کا جائز طریق۔حضور نے ایک دفعہ عاجز کو ایک کتاب نفسیات کے متعلق پڑھنے کو دی جو کسی ڈاکٹر نے لکھی ہوئی تھی۔فرمایا اس کو پڑھو اور خدمت دین (مراد احکام اسلام کا فلسفہ ) کرو۔عاجز نے اس کتاب سے بہت فائدہ اٹھایا۔حضور نے اس پر کئی مقامات پر نوٹ لکھے ہوئے تھے۔جن سے اسلامی احکام کی حکمت ظاہر ہوتی تھی۔میں اس پر مزید غور کر کے مسائل کی فلاسفی پر مضامین لکھتا رہا۔پھر خیال آیا یہ متبرک کتاب ہی کیوں نہ رکھ لوں حضور کو کہاں یادر ہے گا کہ واپس مانگیں۔پھر سوچا یہ طریق نا جائز ہے اور حضور کے احسان سے ناجائز فائدہ اٹھانا