سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 538
480 سکتے آپ نے پہلے سے فرما دیا تھا کہ احباب کو مطلع کر دیا جائے کہ میں مصافحہ کر کے لک کے دفتر میں جاؤ گا۔ملک کا دفتر اس مقصد کے لئے اس وقت تک کھلا رکھا گیا تھا اگر چہ تجارتی نقطہ نگاہ سے لگ کمپنی کا یہ ایک معمولی فعل ہومگر ایک یورپین اوقات کی پابند کمپنی کے لئے غیر معمولی طور پر دفتر کو کھلا رکھنا مشکل ہوتا ہے اور میں اس وقت دیکھتا تھا کہ وہ خادموں کی طرح آپ کے ارشادات کی تعمیل میں مصروف تھے۔( بمبئی میں جہاز پر سوار ہونے سے قبل ) حضرت کی مصروفیات بے حد تھیں چھلی راتوں سے بھی آپ جاگتے آئے تھے اور یہاں بھی یہی مرحلہ پیش آیا۔بمبئی کے ساحل پر جماعت چشم پر نم کھڑی تھی اور افریقہ جہاز کے تختہ پر احمدی جماعت کا محبوب آقا خدام کو لے کر خدا حافظ کہنے کو تھا۔امید، توگل عَلَی اللہ اور مہم عظیم کے خطرات، جماعت سے جسمانی بعد اور علیحدگی ، سلسلہ کی ضروریات اور نظم ونسق کے خیالات مل کر جو کیفیتیں پیدا کر سکتے ہیں وہ آپ کے چہرہ سے عیاں تھیں۔انسانی جذبات پر کسی قدر بھی حکومت ہو ضبط پر کتنا بھی اقتدار ہو آخر اپنا اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتے ایسی حالت میں جب کہ دو پیارے جُدا ہوتے ہیں انسان کی جو حالت ہوتی ہے وہ ظاہر ہے آپ اس کیفیت اور جذ بہ سے خالی نہ تھے۔لیکن اس وقت اس جذبہ کا اظہار ہوا جو وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ میں بیان ہوا ہے۔جماعت سے علیحدگی کا ایک فکر اور غم آپ کے قلب پر تھا اور سلسلہ کی محبت اور احباب و رشتہ داروں اور عزیزوں کی محبت کے جذبات ایک طرف تھے۔جماعت کے وہ نمائندے جو ساحل سمندر پر کھڑے ہوئے گل جماعت کے جذبات کی ترجمانی اپنی آنکھوں اور چہروں سے کر رہے تھے وہ اثر ڈالے بغیر نہیں رہ سکتی تھیں مگر اس وقت ہم نے وہ کچھ دیکھا جو خدا کی محبت میں خمیر شدہ انسان کے سوا نظر نہیں آتا ان تمام کیفیتوں کا اثر دعا کی صورت میں ظاہر ہوا اور آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو اس کے ساتھ ہی جماعت نے اپنے ہاتھ رب العزت کے حضور اٹھائے ان ہاتھوں میں کیا اثر تھا اور اس قلب