سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 537 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 537

479 متعدد مرتبہ عرض کیا گیا مگر آپ نے وہی جواب دیا اور ایک مرتبہ تو فرمایا کیا مجھے آرام کی بہت ضرورت ہے سب اکٹھے چلیں گے آپ نے یہ عمل محض سبق کے لئے نہیں دکھایا بلکہ آپ کی فطرت میں یہ بات داخل ہے سفر میں ہمیشہ دوسروں کے آرام کو مقدم کر لیتے ہیں۔اسی پورٹ سعید میں جب جہاز سے اُترے اور موٹر لانچ میں سوار ہوئے تو اس وقت تک دریافت کرتے رہے جب تک کہ سب سوار ہو گئے۔چوہدری محمد شریف صاحب اور میاں رحم دین صاحب آگے تھے اور حضرت کی نظر ان پر نہ پڑی تھی آپ نے نہایت ہی فکر سے دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں جب ان کو خود دیکھ لیا اس وقت روانہ ہوئے۔یمن سے عدن تک حالات بیان کرتے ہوئے حضرت عرفانی صاحب تحریر کرتے ہیں: آج ۲۲۔جولائی ۱۹۲۴ء کو عرب کے سمندر کے سامنے تختی جہاز پر بیٹھا ہوا یہ خط برادرانِ ملت کے لئے لکھ رہا ہوں جس طرح سمندر میں بے انتہاء چھوٹی بڑی موجیں اٹھ رہی ہیں ٹھیک وہی کیفیت مرے دل و دماغ کی ہے اس سفر کے مختلف مناظر اور کیفیت میرے سامنے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک خوبی رکھتی ہے اور جی چاہتا ہے کہ احباب اس چھوٹی سے چھوٹی مسرت اور لطف میں بھی شریک ہوں جو میں نے اٹھایا ہے مگر یہ خط نہ تو اس کا متحمل ہے اور نہ میری طبیعت میں ابھی وہ قوت اور قابو ہے اس لئے میں کوائف سفر کو شاید بہت ہی مختصر لکھ جاؤں مگر ان حالات کو انشَاءَ اللہ کسی قدر تفصیل سے لکھنے کی کوشش کرونگا جو کسی نہ کسی پہلو سے ہمارے آقا و امام کے ان جذبات کے اظہار سے وابستہ ہیں جن سے آپ کے اس تعلق اور رشتہ کا پتہ چلتا ہے جو آپ کو اپنی جماعت سے ہے یا ان اغراض اور مقاصد مہم کا علم ہوتا ہے جو سلسلہ کی تبلیغ و اشاعت اور حضرت نبی کریم صلی اللہ و الہ وسلم کے نام کو آفاق میں پہنچانے کے لئے آپ کے پیش نظر ہیں۔بمبئی کے اسٹیشن پر بمبئی اور گردو نواح کی جماعتیں موجود تھیں۔جس اخلاص اور عقیدت کے ساتھ احباب نے خیر مقدم کیا اس کا اظہار الفاظ نہیں کر //////